تحریر نعمت کھیڑو
کراچی کے سینئر صحافی حمید سندھُو کے اچانک اور المناک انتقال پر دکھ، افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ احمدپور ضلع خیرپور سے تعلق رکھنے والے حمید چھجڑی عرف حمید سندھُو نے اپنی زندگی کے کم از کم 30 سال صحافت کو دیے۔ وہ مختلف اداروں سے وابستہ رہے، جنہیں "ادارے" کہنا بھی شرمناک محسوس ہوتا ہے۔
حمید سندھُو کورنگی کراسنگ کے قریب بھٹائی کالونی میں ایک کرائے کے گھر میں رہتے تھے، جہاں ان کے بچے بھی ان کے ساتھ رہتے تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ آج صبح ناشتہ کے بعد وہ واش روم گئے تو بے ہوش ہو کر گر پڑے، اور اسپتال لے جانے پر ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کی۔
کچھ دوستوں نے لکھا ہے کہ جس ادارے میں وہ کام کر رہے تھے، یعنی ٹائم نیوز اور اپنی اخبار، انہوں نے کوئی ذمہ داری نہیں لی۔ حتیٰ کہ ان کی لاش چھیپا کے سرد خانے میں پڑی رہی، اور پھر چندہ جمع کر کے ان کا جسد خاکی احمدپور روانہ کیا گیا۔
سوشل میڈیا پر ایک صارف نے اس سیاستدان کی تعریف کی جس نے ایمبولینس اور دوسری گاڑی فراہم کی۔ خیال ہے کہ اشارہ شرجیل میمن کی طرف ہے، جو خود سندھ کے صحافیوں پر ہونے والے ظلم، جبر اور استحصال میں شریک رہے ہیں۔
ادارے کے کچھ افراد سے بات ہوئی، جن کا کہنا تھا کہ اطلاع ملتے ہی ان کے ساتھی پہنچ گئے اور تمام انتظامات کیے۔ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا، یہ کہنا مشکل ہے۔
ہم نہ حکومت کا سہارا لے سکتے ہیں، نہ ان اداروں کا جو آج تک ہزاروں کارکنوں کو اپنی بھٹی کا ایندھن بناتے رہے ہیں۔ انہوں نے خود تو سونا کمایا، مگر کارکنوں کی ہڈیاں بھی گھل گئیں، اور ان کے بچے بھوک کاٹ رہے ہیں۔
ورکر بے یار و مددگار مر رہے ہیں، نہ انہیں مناسب تنخواہیں ملتی ہیں، نہ سالانہ اضافہ۔ جس ادارے میں میں خود کام کرتا تھا، وہاں سات سال سے تنخواہ نہیں بڑھی تھی۔ جب بھی تنخواہ بڑھانے کی بات ہوتی، مالکان ایسے روتے جیسے ان پر ظلم ہو رہا ہو۔ کہتے مہنگائی بہت ہے، کیسے منہ دکھائیں۔ اگر کچھ چاہیے تو بتاؤ، باقی سب کی بات نہ کرو۔ تنخواہ بڑھانے کے بجائے ملازمین کو نکالنے کی دھمکی دیتے۔
حمید سندھُو صحافت کے ساتھ ساتھ کورنگی کراسنگ پر ایک کیبن بھی چلاتے تھے۔ یہی ہے