کراچی،
کراچی کو پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید خطرناک شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ورلڈ وائلڈ فنڈ فار نیچر (WWF) پاکستان کے صدر ندیم خالد نے خبردار کیا ہے کہ شہر کے بڑے پانی کے ذرائع، جیسے کہ کینجھر جھیل، حب ڈیم اور زیرِ زمین پانی، تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔
یہ بات انہوں نے ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ ورکشاپ میں کہی جس کا مقصد پانی کے ذخائر کے تحفظ اور بہتر منصوبہ بندی پر توجہ دینا تھا۔ ورکشاپ میں ماہرین، سرکاری نمائندوں، صنعت کاروں اور کمیونٹی لیڈرز نے شرکت کی اور پانی سے جڑے مسائل پر گفتگو کی۔
ندیم خالد کا کہنا تھا کہ کراچی کو پانی فراہم کرنے والے یہ ذخائر صرف ایک سہولت نہیں بلکہ شہر کی زندگی کا دار و مدار انہی پر ہے۔ اگر ان کا خیال نہ رکھا گیا تو شہریوں، زراعت اور قدرتی ماحول سب کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف کے سینئر ڈائریکٹر پروگرام، ڈاکٹر مسعود ارشد نے بتایا کہ نہ صرف کراچی بلکہ لاہور جیسے بڑے شہر بھی پانی کی شدید کمی، آلودگی اور ناقص انتظام کے مسائل کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی، صنعتی سرگرمیاں اور موسمیاتی تبدیلی اس بحران کو بدتر بنا رہی ہیں۔ڈاکٹر ارشد نے نشاندہی کی کہ زیر زمین پانی کے حد سے زیادہ استعمال کی وجہ سے سندھ کے ڈیلٹا، کینجھر جھیل اور دریائے راوی جیسے قدرتی علاقوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم قدرتی ماحولیاتی نظام کو بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں ایسے حل اپنانا ہوں گے جو انسانوں اور ماحول، دونوں کے لیے فائدہ مند ہوں۔
ورکشاپ میں ڈبلیو ڈبلیو ایف کے فریش واٹر پروگرام کے ڈائریکٹر، سہیل علی نقوی نے کہا کہ پانی کا مسئلہ اب دور کی بات نہیں رہا،
یہ ایک موجودہ حقیقت ہے جس کا حل صرف اجتماعی کوششوں سے ممکن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا ادارہ مختلف اداروں کے ساتھ مل کر ایسے قدرتی حل پر کام کر رہا ہے جو نہ صرف پانی کے مسائل حل کریں بلکہ ماحول، معیشت اور معاشرے کے لیے بھی فائدہ مند ہوں۔
انہوں نے حال ہی میں شروع کیے گئے ایک پانچ سالہ منصوبے کا ذکر کیا جس کا مقصد شہروں میں پانی کے بہتر انتظام کو فروغ دینا ہے۔ یہ منصوبہ "جی ایس کے" نامی بین الاقوامی کمپنی کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے اور اس میں کراچی، کینجھر جھیل، سندھ کے ڈیلٹا اور لاہور کو شامل کیا گیا ہے۔اس منصوبے کے تحت جو اقدامات کیے جائیں گے ان میں سیلاب سے بچاؤ، گندے پانی کی صفائی، مسجدوں کے وضو کے پانی کا دوبارہ استعمال، اور متبادل روزگار کی فراہمی شامل ہیں۔
ورکشاپ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ریکٹ اور جی ایس کے جیسے ادارے عالمی معیار کے مطابق پانی کے بہتر استعمال میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
مقررین نے زور دیا کہ حکومت، فلاحی ادارے، صنعتیں اور عام لوگ سب کو مل کر اس بحران کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ بہتر منصوبہ بندی، ذمے دارانہ استعمال اور پانی کے نظام میں بہتری کے ذریعے نہ صرف شہریوں کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے بلکہ قدرتی ماحول کو بھی بچایا جا سکتا ہے۔