نئے صوبوں کے نام پر سندھ کی تقسیم

عرفان علی عرفان علی

 نئے صوبوں کے نام پر سندھ کی تقسیم


27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے نئے صوبوں کے نام پر سندھ کی تقسیم، کالا باغ ڈیم، نئے ڈیم اور نہریں بنانے، پیکا ایکٹ اور دیگر کالے قوانین کے خلاف 24 ستمبر کو حیدرآباد میں منعقد ہونے والی کانفرنس کی تیاری کے سلسلے میں عوامی تحریک کی جانب سے رابطہ مہم اور مختلف سیاسی، سماجی و ادبی شخصیات کو دعوت دینے کا سلسلہ جاری ہے۔


اس سلسلے میں عوامی تحریک کے مرکزی سینئر نائب صدر نور احمد کاتیار، مرکزی رہنما لال جروار، ایڈووکیٹ اسماعیل خاصخیلی، ڈاکٹر دلدار لغاری اور جام تماچی نے نامور ادیبوں اور دانشوروں سے ملاقاتیں اور ٹیلی فونک رابطے کیے، جن میں جامی چانڈیو، فہیم نوناری، حفیظ کنبھر، ادریس لغاری، ابراہیم کنبھر، رحمت اللہ مانجوٹھی اور دیگر شخصیات کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔


اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نور احمد کاتیار نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم اور نئے صوبے سندھ کی وحدت پر وار ہیں۔ 27ویں ترمیم کے ذریعے آئین کو بے اثر کر کے اسٹیبلشمنٹ کو مزید طاقت دینے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم اور نئی نہریں سندھ کے پانی اور زراعت کے لیے تباہ کن ہیں۔ پیکا ایکٹ اور دیگر کالے قوانین عوام کی اظہارِ رائے کی آزادی پر حملے کے مترادف ہیں۔


انہوں نے کہا کہ 24 ستمبر کی کانفرنس میں سندھ کی مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے، ترقی پسند شاعر، ادیب اور دانشور بڑی تعداد میں شرکت کریں گے۔ سندھ کے وسائل، پانی، خودمختاری اور حقِ حکمرانی سمیت بنیادی مسائل پر سندھ کے ادیبوں، دانشوروں، شاعروں اور سیاسی و سماجی رہنماؤں کا ایک ہی موقف ہے، اور سندھ کی قوم کا واضح اور متفقہ پیغام ہے کہ وہ اپنی دھرتی، دریائے سندھ اور وحدت پر کسی بھی قسم کا وار برداشت نہیں کرے گی۔


جامی چانڈیو نے کہا کہ کارپوریٹ فارمنگ اور نئے صوبوں کے منصوبے سندھ کے خلاف سازشیں ہیں جنہیں ناکام بنانے کے لیے متحدہ جدوجہد ضروری ہے۔

لال جروار نے کہا کہ کارپوریٹ فارمنگ کے منصوبوں کے ذریعے سندھ کی قوم کو زمین سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان منصوبوں کے ذریعے سندھ کی زمین فلسطینیوں کی طرح ان سے چھینی جا رہی ہے۔