آلودگی سے امید تک کا سفر
کراچی کی گلیوں اور شاہراہوں پر بکھرا کچرا اب ایک معمول بن چکا ہے۔ گندے نالوں کے کنارے، پارکوں کے کونے، اور سڑک کے بیچوں بیچ پڑے ڈھیر نہ صرف شہر کا حسن ماند کر دیتے ہیں بلکہ فضا میں زہریلا دھواں اور بدبو پھیلا کر شہریوں کی صحت کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
ہر روز صرف کراچی میں تقریباً بارہ ہزار ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے، جس کا بڑا حصہ لینڈفل سائٹس یا کھلی زمین پر پھینک دیا جاتا ہے۔ وہاں یہ کچرا گلتا سڑتا ہے اور میتھین جیسی خطرناک گیسیں پیدا کرتا ہے، جو کلائمٹ چینج کو تیز کرنے میں اپنا حصہ ڈالتی ہیں۔
سنگاپور کا ماڈل، پاکستان کے لیے ایک نئی امید
لیکن دنیا کے ایک کونے میں موجود چھوٹےمگر ترقی یافتہ ملک سنگاپور نے کچرے کو بوجھ نہیں بلکہ اپنی ترقی کا ایندھن بنا لیا ہے۔ جہاں دیگر ممالک میں بڑھتا ہوا کچرا ماحولیاتی بحران کو جنم دیتا ہے، وہیں سنگاپور نے ویسٹ ٹو انرجی ماڈل کے ذریعے اسے ایک قیمتی وسیلے میں بدل کر مثال قائم کر دی ہے۔ یہ ماڈل ہمیں بتاتا ہے کہ اگر مؤثر منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی اور شہری تعاون یکجا ہوں تو کچرا صرف ختم نہیں ہوتا، بلکہ وہ روشنی، توانائی اور مستحکم مستقبل کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے
سنگاپور کا ماڈل: کچرے سے توانائی تک کا سفر
سنگاپور کے پاس فی الحال چار جدید ویسٹ ٹو انرجی (WTE) پلانٹس ہیں، جہاں روزانہ ہزاروں ٹن کچرا جلا کر بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ ان میں سب سے بڑا TuasOne پلانٹ ہے، جو روزانہ 3,600 ٹن کچرا جلا کر 120 میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے، اتنی توانائی جو تقریباً ڈھائی لاکھ گھروں کی ضرورت پوری کر سکتی ہے۔ دوسرا بڑا پلانٹ Tuas South ہے، جو روزانہ 3,000 ٹن کچرا جلا کر 80 میگاواٹ بجلی فراہم کرتا ہے۔
یہ عمل محض بجلی پیدا کرنے تک محدود نہیں، بلکہ ماحولیاتی تحفظ کو بھی اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ پلانٹس میں لگے جدید فلٹرز اور گیس کلیننگ سسٹمز دھوئیں میں موجود نقصان دہ ذرات کو فضا میں جانے سے روکتے ہیں۔ کچرا جلنے کے بعد جو راکھ بچتی ہے، اسے تعمیراتی کاموں، سڑکوں اور دیگر انفراسٹرکچر میں استعمال کیا جاتا ہے، یوں کچرے کا تقریباً 90 فیصد حصہ کارآمد وسائل میں بدل دیا جاتا ہے
۔
سنگاپور صرف آج پر نہیں، بلکہ مستقبل پر بھی نظر رکھتا ہے۔ آنے والے برسوں میں وہاں Tuas Nexus کا منصوبہ شروع ہوچکا ہے، جو ایک مربوط پلانٹ ہوگا۔ یہاں کچرا اور گندا پانی ایک ساتھ پروسیس کیا جائے گا، بایوگیس پیدا ہوگی، پلانٹ اپنی توانائی خود پیدا کرے گا اور اضافی بجلی بھی نیشنل گرڈ کو فراہم کرے گا۔ یہ ماڈل ماحولیاتی استحکام اور خود کفالت کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔جس کی تکمیل 2027۔2026 تک متوقع ہے۔
پاکستان میں 83 فیصد کچرے کے ری سائیکل ہونے کی حقیقت
پاکستان میں، خاص طور پر کراچی جیسے بڑے شہروں میں، ہر روز ہزاروں ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق، کراچی میں روزانہ تقریباً 4,100 ٹن ری سائیکل ہونے والا کچرا پیدا ہوتا ہے، اور اس میں سے تقریباً 83 فیصد (یعنی تقریباً 3,422 ٹن) بالواسطہ طور پر ری سائیکل ہو جاتا ہے۔ لیکن یہاں "ری سائیکلنگ" کا مطلب سنگاپور یا یورپ جیسا جدید سسٹم نہیں ہے۔
یہ سب زیادہ تر غیر رسمی طریقے سے ہوتا ہے، جسے عام طور پر "اسٹریٹ لیول آپریشن" کہا جاتا ہے۔ یعنی کچرے سے پلاسٹک، دھات، گتہ، بوتلیں اور کپڑا چھان کر الگ کر لیا جاتا ہے۔یہ کام زیادہ تر کچرا چننے والے مزدور کرتے ہیں، جو کچرے کے ڈھیروں، لینڈفلز یا گلیوں میں پڑے کوڑے سے قابلِ فروخت چیزیں نکالتے ہیں۔جو چیزیں قیمتی یا استعمال کے قابل ہوتی ہیں، وہ "کباڑیوں" کو بیچ دی جاتی ہیں۔کباڑی والے انہیں مزید صاف، پروسیس اور میکانیکل ری سائیکلنگ کے لیے فیکٹریوں میں بھیجتے ہیں۔یہ عمل منظم حکومتی نظام کے بجائے غیر رسمی نیٹ ورک کے تحت چلتا ہے، اس لیے اسے "بالواسطہ ری سائیکلنگ" کہا جاتا ہے۔
باقی کچرا کہاں جاتا ہے؟
ری سائیکل ہونے والے تقریباً 3,422 ٹن کچرے کے بعد بھی، روزانہ کا بڑا حصہ مختلف طریقوں سے ضائع ہوتا ہے۔یہ کچرا کھلے میدانوں میں جلایا جاتا ہے،لوگ اکثر گھروں، گلیوں یا کچرے کے ڈھیروں میں کچرا جلا دیتے ہیں، جس سے کاربن مونو آکسائیڈ، ڈائی آکسینز اور دیگر زہریلی گیسیں فضا میں شامل ہو جاتی ہیں۔یہ عمل ہوا کو آلودہ کرتا ہے اور سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتا ہے۔جو کچرا لینڈفل سائٹس پر پھینکا جاتا ہے، وہاں یہ گلتا سڑتا ہے۔اس عمل سے میتھین گیس خارج ہوتی ہے، جو کلائمٹ چینج کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ سے 25 گنا زیادہ خطرناک ہے۔جو کچرا زمین میں دبا رہتا ہے، اس میں سے رسنے والا گندا پانی(لِیچیٹ) زمین کے نیچے موجود پانی کو آلودہ کرتا ہے۔یہ آلودگی زرعی زمین اور زیرِ زمین پانی دونوں کو متاثر کرتی ہے۔
یہ نظام ناکافی کیوں ہے؟
غیر رسمی ری سائیکلنگ پر انحصار کا مطلب یہ ہے کہ کوئی مرکزی حکومتی پالیسی یا جدید ویسٹ مینجمنٹ انفراسٹرکچر موجود نہیں۔کچرا چننے والے اکثر بغیر حفاظتی اقدامات کے یہ کام کرتے ہیں، جس سے ان کی صحت کو بھی خطرہ ہوتا ہے۔پاکستان میں صرف 60-70٪ کچرا اکٹھا ہوتا ہے؛ باقی سڑکوں، نالوں یا خالی زمین پر پھینک دیا جاتا ہے، جو ماحولیاتی تباہی کا باعث بنتا ہے۔
کلائمٹ چینج کے تناظر میں اہمیت
پاکستان پہلے ہی کلائمٹ چینج کے شدید خطرات کا سامنا کر رہا ہے کبھی تباہ کن بارشیں، کبھی ہیٹ ویوز اور کبھی سمندری طوفان ، لینڈفلز میں پڑے کچرے سے نکلنے والی میتھین گیس، کاربن ڈائی آکسائیڈ سے 25 گنا زیادہ نقصان دہ ہے۔ اگر ویسٹ ٹو انرجی پلانٹس لگائے جائیں تو یہ خطرہ کم ہو سکتا ہے، کیونکہ یہاں کچرا کنٹرولڈ سسٹم میں جلتا ہے اور فضا میں کم نقصان دہ گیسیں خارج ہوتی ہیں۔
پاکستان کے لیے موقع، مگر چیلنج بھی
اگر پاکستان سنگاپور کے ماڈل کو اپنائے تو اس کے دو بڑے فائدے ہو سکتے ہیں
توانائی کا بحران کم ہوگا فضلے سے بجلی پیدا کر کے گھروں اور صنعتوں کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی کھلے آسمان تلے پڑے کچرے سے خارج ہونے والی زہریلی گیسوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
لیکن یہ سب کچھ آسان نہیں اس کے لیے تین بڑے اقدامات لازمی ہیں
جدید ٹیکنالوجی کا حصول WTE پلانٹس کے لیے سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی ضرورت ہے۔
پالیسی سازی اور سخت قوانین کچرے کی علیحدگی، ری سائیکلنگ اور ویسٹ مینجمنٹ کے لیے واضح حکمتِ عملی بنانا ہوگی۔
شہری شعور اور رویے میں تبدیلی
ویسٹ ٹو انرجی جیسے ماڈلز تبھی کامیاب ہو سکتے ہیں جب لوگ کچرا الگ الگ رکھیں اور اسے صحیح جگہ پر ڈالیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ گھروں، دفاتر یا دکانوں پر پیدا ہونے والے کچرے کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا جائے، جیسے گیلے کچرے میں سبزیوں کے چھلکے اور کھانے کے بچے ہوئے حصے، خشک کچرے میں پلاسٹک بوتلیں، گتہ، کاغذ اور دھات، جبکہ پرانی بیٹریاں، میڈیکل ویسٹ اور کیمیکلز والے پیکٹس الگ رکھے جائیں۔ کچرا اس طرح الگ کرنے سے ری سائیکلنگ کا عمل آسان ہو جاتا ہے، ماحول کم آلودہ ہوتا ہے اور بجلی بنانے کے لیے جدید ماڈلز زیادہ مؤثر طریقے سے کام کر سکتے ہیں۔
اندھیروں سے روشنی تک
سنگاپور نے ثابت کر دیا ہے کہ کچرا محض ایک بوجھ نہیں بلکہ ترقی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ بس نظر کا زاویہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستان اسی سمت میں قدم بڑھائے تو نہ صرف شہروں کی گندگی کم ہو سکتی ہے بلکہ توانائی کا بحران بھی بڑی حد تک حل کیا جا سکتا ہے۔یہ وقت سوچنے کا نہیں، کرنے کا ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ کچرے کے ڈھیروں کے ساتھ جینا ہے یا سنگاپور کی طرح انہیں توانائی، ترقی اور صاف ماحول میں بدلنا ہے۔