پنجاب میں سیلاب سے 41 افراد جاں بحق، 24 لاکھ سے زائد آبادی متاثر، امدادی سرگرمیاں جاری
پنجاب میں حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال نے تباہی مچا دی ہے۔ وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کے مطابق مختلف حادثات میں 41 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے ہیں۔ صوبے بھر میں 3243 سے زائد مواضع جات متاثر ہوئے جبکہ 24 لاکھ 52 ہزار سے زائد افراد کو متاثرہ قرار دیا گیا ہے۔
سیلابی ریلا اس وقت ہیڈ تریموں سے گزر رہا ہے جہاں پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ ہیڈ محمد والا پر بھی ریلا پہنچنے والا ہے، جس کی صلاحیت 470 فٹ بتائی گئی ہے۔ حکومت پنجاب نے سیلاب سے ملتان کو بچانے کے لیے پیشگی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو ہیڈ تریموں میں سیلابی صورتحال پر بریفنگ دی گئی، جبکہ انہوں نے جھنگ میں ریلیف کیمپس کا دورہ بھی کیا۔ عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ 9 لاکھ 99 ہزار 86 متاثرین اور 7 لاکھ 8 ہزار 940 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ صوبے بھر میں 395 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں، جن میں 14 ہزار 393 افراد مقیم ہیں۔
سیلاب متاثرین کو علاج و معالجے کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، ٹی ایچ کیو اسپتالوں میں سہولیات کو یقینی بنایا گیا ہے۔ حکومت نے ایک مرکزی ڈیش بورڈ بھی قائم کیا ہے تاکہ امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کی جا سکے۔
عظمیٰ بخاری نے عوام سے اپیل کی ہے کہ سوشل میڈیا پر بے بنیاد خبروں پر یقین نہ کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات پر اعتماد کریں۔ انہوں نے بتایا کہ آسمانی بجلی گرنے سے بھی اموات ہوئی ہیں، اور بارشوں کے باعث بحالی کے کاموں میں مشکلات درپیش ہیں۔
ریسکیو ادارے اور انتظامیہ امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، اور ہیلپ لائن کے ذریعے متاثرین کو فوری مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 30 افراد کو سیلاب زدہ علاقے سے بحفاظت نکالا گیا، جبکہ جھنگ میں ایک متاثرہ خاتون کو کشتی کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا۔