نیپال میں بدعنوانی اور سوشل میڈیا پابندی کے خلاف مظاہرے شدت اختیار کر گئے، 51 افراد ہلاک

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

نیپال میں بدعنوانی اور سوشل میڈیا پابندی کے خلاف مظاہرے شدت اختیار کر گئے، 51 افراد ہلاک

نیپال میں بدعنوانی اور سوشل میڈیا پابندی کے خلاف مظاہرے شدت اختیار کر گئے، 51 افراد ہلاک

کھٹمنڈو: نیپال میں بدعنوانی اور سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف جاری مظاہرے پرتشدد رخ اختیار کر گئے ہیں۔ نیپالی حکام کے مطابق پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں 51 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ متعدد زخمی ہیں۔

احتجاجی تحریک کا آغاز نوجوانوں کی جانب سے ہوا، جنہوں نے حکومت کی جانب سے فیس بک، یوٹیوب، اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کے خلاف آواز بلند کی۔ مظاہرین نے پارلیمنٹ، سپریم کورٹ، اور وزراء کی رہائش گاہوں کو نذر آتش کر دیا۔

مظاہروں کے دوران اہم واقعات:

12ہزار سے زائد قیدی مختلف جیلوں سے فرار ہو گئے، جن کی تلاش جاری ہے۔

مظاہرین نے وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے سرکاری دفاتر پر دھاوا بول دیا۔

حکومت نے کرفیو نافذ کر دیا اور فوجی دستے تعینات کر دیے۔

سابق چیف جسٹس کے عبوری حکومت سنبھالنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے پرتشدد کارروائیوں اور طاقت کے غیر ضروری استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے، اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیر اعظم کے استعفے کے بعد ملک میں سیاسی خلا پیدا ہو گیا ہے، جسے پُر کرنے کے لیے عبوری حکومت کی تشکیل پر غور جاری ہے۔ نیپال اس وقت دو دہائیوں کے بدترین سیاسی بحران سے گزر رہا ہے۔