بلوچستان کابینہ کا 19 واں اجلاس، اقلیتوں، ٹرانس جینڈرز اور صحت کے شعبے میں اہم فیصلے

عرفان علی عرفان علی

بلوچستان کابینہ کا 19 واں اجلاس، اقلیتوں، ٹرانس جینڈرز اور صحت کے شعبے میں اہم فیصلے

بلوچستان کابینہ کا 19 واں اجلاس، اقلیتوں، ٹرانس جینڈرز اور صحت کے شعبے میں اہم فیصلے

کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 19 واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں عوامی فلاح، سماجی انصاف اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔

اجلاس میں اقلیتوں کی بہبود کے لیے انڈومنٹ فنڈ قائم کرنے کی منظوری دی گئی، جب کہ صوبے کی پہلی ٹرانس جینڈرز پالیسی بھی منظور کر لی گئی، جو صنفی مساوات اور سماجی شمولیت کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

اجلاس کے اہم فیصلے:

پروانشل ایوی ایشن اسٹریٹجی اور تین سالہ پروگرام پلان 2025 تا 2027 کی منظوری۔

ساکرن اور کربلا کو تحصیل کا درجہ دینے کی منظوری۔

قانون شہادت ترمیمی بل کی صوبائی سطح پر توثیق۔

نفرت آمیز مواد پر پابندی لگانے کی منظوری، محکمہ داخلہ کی سفارشات پر۔

بی ٹی وی ٹی اے کے تحت ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ اینٹی گریشن کی توثیق۔

دالبندین میں جدید پرنس فہد اسپتال کے قیام کی منظوری۔

عدالتی فیصلے کے مطابق خالق آباد اور سکندر آباد کے نام بحال کرنے کی منظوری۔

دی ہاسپٹل ویسٹ مینجمنٹ رولز 2025 کی منظوری۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کی افغانستان جانے والی ترسیلات کو ڈویلپمنٹ چارجز سے مستثنیٰ قرار دینا۔

وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ کابینہ کے فیصلے شفافیت، گڈ گورننس اور عوامی مفاد کے عملی مظہر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان تمام طبقات کو ساتھ لے کر آگے بڑھنے پر یقین رکھتی ہے اور اقلیتوں و خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر کے منصوبے ترجیحی بنیادوں پر شروع کیے جا رہے ہیں تاکہ صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔