عرفان علی
ملتان
میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہناہےکہ یہ افغانستان کی قیادت کی آزمائش کے لمحات
ہیں، ہمارا ایجنڈا ہے کہ افغانستان میں امن ہو، افغانستان کے عوام ملک میں امن چاہتے
ہیں۔
یہ
بات وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ملتان میں ایک پریس کانفرنس میں کہی
وزیر
خارجہ کا کہناتھاکہ خواہش ہے کہ مسئلہ گفت و شنید سے حل ہو، افغانستان کے عوام ملک
میں امن چاہتے ہیں، پاکستان نے ہر موقع پر اپنی کوششیں جاری رکھیں، عاشورہ کے فوری
بعد ہمسایہ ممالک سے افغان ایشو پر رابطہ کروں گا،وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی
کاکہناتھاکہ پاکستان یہ کہتا آیا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی عسکری حل نہیں
ہے، دنیا اور پاکستان ایک پیج پر ہیں، افغانستان کا مسئلہ بات چیت سے حل کیا جائے،
افغانستان کی عوام چاہتی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں محفوظ رہیں، انکا کہناتھاکہ ہم بھی
چین ایران تاجکستان سمیت جتنے ہمسایہ ممالک ہیں وہ سب ایک پیج پر ہوں، افغانستان کی
صورتحال لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہو رہی ہے، ہم افغانستان میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں
رکھتے،
افغانستان
میں ہمارا کوئی بھی فیورٹ نہیں، فیصلہ افغانوں نے کرنا ہے، افغان جو فیصلہ کریں گے
ہم اس پر آمین کہیں گےپاکستان کی ایمبیسی وہاں پر کام کر رہی ہے، ہماری کوشش ہے کہ
اگر کوئی پاکستانی یاکوئی اور بھی وہاں موجود ہے تو ہم ان کی مدد کریں گے، دنیا کو
اس مسئلے کی سنجیدگی کا احساس یقین ہے، انکا کہناتھاکہ بھارت افغانستان کے مسئلے کو
حل کرنے کے لیے رول ادا کر ے،یہ خیر سگالی کا وقت ہے، لاکھوں افغانوں کو اپنے ملک میں
ہم لوگوں نے جگہ دی، ہم افغانستان کے پڑوسی
ہیں ان سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں کل کے بارے میں کوئی پیشنگوئی نہیں کر سکتا، وزیر
خارجہ نے کہاکہ افغانستان کے
ساتھ جو باڈرز ہیں ہم نے وہاں ریگولیٹری سسٹم انسٹال کر دیا ہے، ہمارے طیارے وہاں سے
خیریت سے پرواز کریں گے،، دنیا کو اس مسئلے کی سنجیدگی کا احساس یقین ہے،، دنیا کو
اس مسئلے کی سنجیدگی کا احساس یقین ہے، یہ خیر سگالی کا وقت ہے