کاہنہ سے خاتون کی بازیابی کیس: لاہور ہائیکورٹ میں آئی جی پنجاب کی پیشی

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

کاہنہ سے خاتون کی بازیابی کیس: لاہور ہائیکورٹ میں آئی جی پنجاب کی پیشی

کاہنہ سے خاتون کی بازیابی کیس: لاہور ہائیکورٹ میں آئی جی پنجاب کی پیشی، ہیومن ٹریفکنگ کا زاویہ زیر غور


لاہور: لاہور ہائیکورٹ میں کاہنہ سے خاتون کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں آئی جی پنجاب عثمان انور عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے کیس میں پیشرفت سے متعلق سوالات اٹھائے۔


آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ کیس کو ہیومن ٹریفکنگ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے اور اب تک 100 سے زائد بچیوں کو بازیاب کرایا جا چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر اشتہارات دیے گئے اور تمام صوبوں کو معلومات فراہم کرنے کی درخواست کی گئی۔


عدالت کو بتایا گیا کہ مغوی خاتون کا کوئی فنگر پرنٹ یا شناختی کارڈ موجود نہیں، جبکہ نکاح نامے پر بھی وکیل کے دستخط ہیں۔ خاتون کا ایک بچہ بھی تھا، جسے چھوڑ کر وہ روانہ ہوئی۔


چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ خاتون کو لے جایا گیا، مگر اب معلوم ہوا ہے کہ وہ خود سامان پیک کر کے گئی۔ عدالت نے خاتون کی ساس سمیت گھر کے تمام افراد کے پولی گرافی ٹیسٹ کی تفصیلات طلب کیں، جس پر آئی جی پنجاب نے بتایا کہ تمام ٹیسٹ مکمل ہو چکے ہیں۔


عدالت نے صوبوں سے رابطے کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا اور آئندہ سماعت پر واضح اور مثبت پیشرفت رپورٹ طلب کی۔ چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب کو 10 دن کا وقت دیتے ہوئے کہا کہ خاتون زندہ ہے یا نہیں، اس پر ٹھوس جواب درکار ہے۔