سینیٹ سے 27ویں آئینی ترمیمی بل دو تہائی اکثریت سے منظور، تمام شقیں بھاری حمایت سے پاس
اسلام آباد: سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیمی بل کو دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا، بل کی تمام 59 شقیں بھاری اکثریت سے پاس ہوئیں۔ بل کے حق میں 64 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ مخالفت میں صرف دو ووٹ آئے، جن کا تعلق ابتدائی شقوں سے تھا۔
بل کی پہلی اور دوسری شق کی حمایت میں 64 اور مخالفت میں 2 ووٹ آئے، جبکہ چوتھی سے چھٹی شق تک کسی نے مخالفت نہیں کی۔ شق نمبر 7 سے 59 تک تمام شقیں مطلوبہ دو تہائی اکثریت سے منظور کی گئیں، جن میں کئی شقوں پر مکمل اتفاق رائے رہا۔
جے یو آئی کے سینیٹر احمد خان نے بھی بل کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے پارٹی پالیسی کے برخلاف آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ کاسٹ کیا۔
سینیٹ اجلاس میں ترمیمی بل کی منظوری کو آئینی اصلاحات کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔ بل کی منظوری سے آئینی عدالت کے قیام، ججز کے تبادلوں، فنڈز کی تقسیم، تعلیم و صحت کے یکساں نظام اور وفاقی و صوبائی اختیارات کے توازن جیسے اہم نکات پر پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔