کھلے مین ہول میں گرنے والے تین سالہ بچے کی لاش پندرہ گھنٹے بعد نکال لی گئی

عرفان علی عرفان علی

کھلے مین ہول میں گرنے والے تین سالہ بچے  کی لاش  پندرہ  گھنٹے بعد نکال لی گئی


  کراچی میں گلشن اقبال  نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گرنے والے تین سالہ بچے  کی لاش  پندرہ  گھنٹے بعد نکال لی گئی۔ بچے کے والدین غم سے نڈھال ۔ سرکاری مشینری  بارہ  گھنٹے  بعد  حادثے کے  مقام پر پہنچی۔


ریسکیو حکام کے مطابق اتوار کی رات دس بجے کے قریب  تین سالہ ابراہیم  اپنے والد کے ساتھ شاپنگ کے لئے آیا تھا۔شاپنگ مال سے نکلتے ہی ابراہیم والد کا ہاتھ چھوڑ کر بھاگا اور کھلے مین ہول میں جا گرا۔

رات بھر مین ہول کے قریب  ہیوی مشینری کی مدد سے کھدائی کا عمل جاری رہا۔ریسکیو ڈبل ون، ڈبل ٹو کےمطابق تقریباً پانچ مقامات سے سیوریج لائن کے اطراف کھدائی کی گئی۔

تقریباً ایک سے ڈیڑھ کلو میٹر سڑک کے حصے کو کھودا گیا۔آپریشن انچارج نے بتایا   نقشہ نہ ہونے کے باعث ریسکیو کے عمل میں شدید پریشانی کا سامنا رہا۔جہاں تک شک و شبہ تھا وہاں تک مین ہول اور نالے میں تلاش کیا۔

   بچے کا سراغ لگانے کے لئے جدید مشینری کا بھی استعمال کیا گیا۔ تقریبا پندرہ گھنٹے کی جدوجہد کے بعد   بچے کی لاش تلاش کرلی گئی۔واقعہ پر     مشتعل افراد  نےٹائر جلا کر احتجاج  بھی کیا ۔ 

میڈیا کی گاڑیوں پر  پتھراو بھی کیا گیا۔ ایک مرحلے پر  ریسکیو آپریشن  روکنا بھی پڑا۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار  واقعہ کے مقام پر  پہنچے،، تو  شہری مشتعل ہوگئے اور نعرے بازی کی۔

انہوں وہاں سے واپس لوٹنا پڑا۔ دوسری جانب     سے غم سے نڈھال بچے کے  اہلخانہ  کا دعوی  ہے  امدادی ادارے تاخیر سے پہنچے ۔ رات گئے اپنی مدد آپ کے تحت کام کرایا۔ سرکاری مشینری بارہ گھنٹے بعد حادثے کے مقام پر پہنچی۔