محکمہ صحت پنجاب نے صوبے کے تمام سرکاری اسپتالوں کو انفلوئنزا ایڈوائزری پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
لاہور میں او پی ڈی، ایمرجنسی اور وارڈز میں انفلوئنزا مریضوں کا روزانہ ڈیٹا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ مشتبہ کیسز کی تفصیل دوپہر تین بجے تک ڈیزیز سرویلنس سسٹم پر رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق دسمبر میں انفلوئنزا ایچ ون وین وین کے کیسز میں اضافے کا خدشہ ہے، اس لیے اسپتالوں کو مریضوں کی نگرانی اور آئسولیشن یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔لاہور کے اسپتالوں میں فلو، کھانسی، چیسٹ انفیکشن اور بخار کے مریضوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران شہر کے پانچ بڑے سرکاری اسپتالوں میں 25 ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مرض شدت اختیار کرے تو نمونیا اور اموات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔