گوادر: ایران میں کشیدہ صورتحال کے باعث پاکستانی طلبہ و زائرین کی وطن واپسی کا عمل جاری

عرفان علی عرفان علی

گوادر: ایران میں کشیدہ صورتحال کے باعث پاکستانی طلبہ و زائرین کی وطن واپسی کا عمل جاری


ایران میں موجودہ حالات کے پیش نظر وہاں زیرِ تعلیم اور پھنسے ہوئے پاکستانی طلبہ و طالبات کی وطن واپسی کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ گزشتہ روز زنجان میڈیکل یونیورسٹی اور المصطفیٰ یونیورسٹی کے 33 طلبہ اور 24 طالبات گوادر پہنچے، جہاں ضلعی انتظامیہ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ انتظامیہ کی جانب سے کھانے پینے، رہائش اور سفر کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔


ضلعی انتظامیہ کے مطابق اب تک ایران سے 131 طلبہ اور 150 سے زائد زائرین وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔ تاہم زنجان یونیورسٹی میں اب بھی 40 سے زائد پاکستانی طلبہ موجود ہیں، جن میں اکثریت طالبات کی ہے۔ ان کی محفوظ واپسی کے لیے حکومتِ پاکستان سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔


گزشتہ دو دنوں کے دوران گبد–ریمدان بارڈر کے راستے تقریباً 200 پاکستانی شہری وطن واپس پہنچے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کے مطابق صرف آج کے دن ایران سے 51 طلبہ و طالبات پاکستان پہنچے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تک 125 سے زائد طلبہ و طالبات بارڈر کے راستے وطن واپس آ چکے ہیں۔


ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ایران سے آنے والے طلبہ و طالبات کو کھانے پینے، رہائش اور سفر کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ نقیب اللہ کاکڑ نے مزید بتایا کہ موجودہ حالات کے پیشِ نظر پاکستان ایمبیسڈر اور وزارتِ خارجہ نے طلبہ اور شہریوں کی واپسی کے خصوصی انتظامات کر دیے ہیں۔


یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ایران میں موجود تمام پاکستانی طلبہ و زائرین محفوظ طریقے سے وطن واپس نہیں پہنچ جاتے۔