اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے معاشی اصلاحات پر اہم اعلانات
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ملکی معیشت کے حوالے سے متعدد اقدامات اور پالیسی اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چینی مارکیٹ میں پانڈا بانڈز جاری کرے گی، جو پاکستان کے مالیاتی تعاون کو مزید وسعت دینے کا باعث بنیں گے۔
چار سال پہلے ہمارے پاس ڈالر نہیں تھے، اب حالات بہتر ہیں۔
شرح سود کم ہونے سے ڈیبٹ منیجمنٹ آفس جانے کی ضرورت نہیں رہی۔
جون تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز پر منتقل کر دی جائیں گی۔
24ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کر دیے گئے۔
سرکاری اداروں میں ہر سال ایک ہزار ارب روپے ضائع ہو رہے ہیں۔
یوٹیلیٹی اسٹورز، پی ڈبلیو ڈی اور پاسکو کو بند کر دیا گیا۔
ڈیوٹیز بڑھانا نقصان دہ ہوگا، انہیں معقول بنانا اور کاروباری لاگت کم کرنا ضروری ہے۔
پی آئی اے کی نجکاری میں مقامی سرمایہ کاروں نے شرکت کی۔
شعبہ ٹیرف میں بڑے اصلاحات متعارف کرائے گئے، خام مال پر ڈیوٹیز کم کی جا رہی ہیں۔
ٹیرف میں کمی سے پاکستان کی برآمدات اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔
ٹیکس پالیسی ایف بی آر سے لے کر فنانس ڈویژن کو منتقل کر دی گئی۔
سرکلر ڈیڈ کم کیا گیا ہے، معاشی اصلاحات سے ترقی ممکن ہے۔
نجی شعبے کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کے لیے آگے آنا ہوگا۔
رواں سال 41 ارب ڈالر کے ترسیلات زر موصول ہونے کا امکان ہے، گزشتہ مالی سال یہ 38 ارب ڈالر تھیں۔
ایف بی آر کی توجہ ٹیکس جمع کرنے پر مرکوز ہے۔
شعبہ توانائی میں اصلاحات کا عمل جاری ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف ٹاسک فورس کو لیڈ کر رہے ہیں۔
غیر بینکنگ افراد کو مالیاتی نظام میں شامل کیا جا رہا ہے۔
کچھ فرمز ملک سے جا رہی ہیں، یہ حقیقت ہے۔
وزیر خزانہ نے زور دیا کہ معیشت کو بہتر بنانے کے لیے حکومت مسلسل اقدامات کر رہی ہے اور نجی شعبے کو بھی اس عمل میں شریک ہونا ہوگا۔