سپریم کورٹ: بقایاجات تنازع پر قتل کیس میں 15 سال بعد ملزم بری

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

سپریم کورٹ: بقایاجات تنازع پر قتل کیس میں 15 سال بعد ملزم بری

سپریم کورٹ: بقایاجات تنازع پر قتل کیس میں 15 سال بعد ملزم بری

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ساہیوال میں کپڑے کی دکان پر پیش آنے والے قتل کے مقدمے میں 15 سال بعد ملزم کو بری کر دیا اور لاہور ہائیکورٹ کا 29 نومبر 2017 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

واقعہ 14 مارچ 2011 کو ساہیوال میں کپڑے کی دکان پر پیش آیا۔

شکایت کنندہ کے مطابق کپڑے کے بقایا 2500 روپے کے تنازع پر جھگڑا ہوا تھا۔

ٹرائل کورٹ نے 2015 میں ملزم کو 25 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

عدالت نے قرار دیا کہ شکایت کنندہ کی موقع پر موجودگی مشکوک ہے کیونکہ اس وقت مکمل اندھیرا تھا۔

تفتیشی افسر کے مطابق فائر ملزم نے نہیں بلکہ کسی اور نے کیا تھا۔

فائر کرنے والے سے پستول برآمد ہوئی جس کا خول میچ ہوا تھا۔

گواہان کو عدالت میں پیش نہ کرنا استغاثہ کے خلاف منفی تاثر ہے۔

عدالت نے استغاثہ کی ناکامی اور شواہد میں تضادات کی بنیاد پر ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔