گل پلازہ: ملبے کے نیچے دبے خواب، اور اوپر زندہ لاشیں

عمران عمران

گل پلازہ: ملبے کے نیچے دبے خواب، اور اوپر زندہ لاشیں


کراچی کے گل پلازہ کی راکھ میں صرف لاشیں نہیں، امیدیں، خواب اور وہ زندگیاں بھی دفن ہو چکی ہیں جو کل تک معمول کا حصہ تھیں۔ یہ سانحہ صرف مرنے والوں کا نہیں بلکہ ان زندہ لوگوں کا بھی ہے جو ملبے کے اوپر کھڑے ہو کر اپنے پیاروں کی سانسوں، ناموں اور شناخت کا انتظار کر رہے ہیں۔ گل پلازہ کے ملبے سے نکالی گئی لاشیں اب خاموش نہیں رہیں، وہ ڈی این اے رپورٹس، نمبروں، فائلوں اور نمونوں میں بول رہی ہیں، جبکہ زمین کے اوپر موجود لوگ سانس تو لے رہے ہیں مگر جینے کی طاقت کھو بیٹھے ہیں۔ شناخت کا عمل جاری ہے، مگر وقت جیسے ٹھہر گیا ہو، وہ گھڑیاں جو کانپتے ہاتھوں میں تھامی گئی ہیں، آنکھوں میں بسی دعاؤں کے ساتھ ایک ہی لمحے پر رک چکی ہیں۔

گھر والے کسی قطار میں نہیں بلکہ خوف میں کھڑے ہیں، جہاں ہر فون کی گھنٹی دل کو چیر دیتی ہے اور ہر نام کی پکار پر سانس سینے میں اٹک جاتی ہے۔ کسی کو نہیں معلوم کہ یہ امید ہے یا قیامت، کیونکہ اس انتظار میں دونوں کی شکل ایک جیسی ہو چکی ہے۔ ایک ماں ملبے کو دیکھتی ہے تو اسے اینٹ پتھر نہیں بلکہ اپنے بیٹے کا وجود دکھائی دیتا ہے، وہ اسی ڈھیر سے باتیں کرتی ہے، اسی سے امید باندھتی ہے اور اسی سے ڈرتی بھی ہے۔ باپ کی آنکھوں میں سوال ہیں مگر ہونٹوں پر خاموشی طاری ہے، کیونکہ بعض اوقات سوال پوچھنے کی ہمت بھی انسان کے اندر ہی ٹوٹ جاتی ہے۔

گل پلازہ اب ایک عمارت نہیں رہا بلکہ بے حسی، غفلت اور ناکام نظام کی ایک اونچی مثال بن چکا ہے، ایک ایسا ملبہ جہاں انسانی چیخیں دب گئیں اور اداروں کی بے بسی عیاں ہو گئی۔ اسپتال میں مزید انسانی باقیات لائی جا رہی ہیں، شناخت ڈیسک کے مطابق چار مزید بیگ موصول ہوئے ہیں جو ممکنہ طور پر چار افراد کی باقیات ہو سکتے ہیں، جبکہ جاں بحق افراد کی تعداد 71 تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مگر یہ صرف اعداد نہیں، ہر عدد کے پیچھے ایک گھر، ایک ماں کی دعا، ایک باپ کی امید اور ایک خاندان کی پوری کائنات دفن ہے۔

ملبہ اگرچہ وہیں موجود ہے، مگر اصل ڈھیر اب دلوں میں لگ چکا ہے.صبر کا، آنسوؤں کا اور اس انتظار کا جو سب سے زیادہ اذیت ناک ہوتا ہے۔ یہ دکھ صرف مرنے والوں کا نہیں بلکہ ان زندہ رہ جانے والوں کا ہے جو ہر لمحہ اپنے پیاروں کی شناخت اور اپنی قسمت کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔ گل پلازہ میں لاشیں تو مل گئیں، مگر اصل سانحہ ان آنکھوں میں ہے جو دروازوں، فہرستوں اور رپورٹوں کو تکتے تکتے خود ملبہ بن چکی ہیں۔

کراچی ایک بار پھر جل گیا۔

دھواں عمارت سے نہیں،

نظام سے اٹھا۔


گل پلازہ کی راکھ ابھی ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی،

لاشوں کی مٹی ابھی سوکھی نہیں تھی،

اور سیاست کے مائیک آن ہو چکے تھے۔


کسی نے اٹھارویں ترمیم کو ذمہ دار ٹھہرایا،

کسی نے وفاق کا نعرہ لگا دیا،

کسی نے استعفے مانگ لیے،

کسی نے مارچ کا اعلان کر دیا۔


لیکن سوال وہی پرانا ہے۔

جب یہ شہر جل رہا تھا،

تب سب کہاں تھے؟


یہ وہی کراچی ہے

جس نے سب کو اقتدار دیا،

ریونیو دیا،

ووٹ دیا۔

بدلے میں کیا ملا؟

آگ، ملبہ، لاشیں، اور بیانات۔


ایک طرف حکمران ہیں

جو کہہ رہے ہیں

“ہم نے پیکج دے دیا”

جیسے ایک کروڑ روپے

ایک باپ کی کمی پوری کر دے،

یا ایک ماں کی خاموش چیخ۔


دوسری طرف اپوزیشن ہے

جو آج کراچی کو یاد کر رہی ہے،

لیکن کل اسی شہر میں

اقتدار میں تھی،

تب بھی یہی آگ تھی،

تب بھی یہی بے حسی تھی۔


دکاندار پوچھ رہا ہے

میری دکان کب ملے گی؟

لواحقین پوچھ رہے ہیں

میری لاش کہاں ہے؟


اور سیاست دان

ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں۔


کراچی سب جانتا ہے۔

کون اس کا تھا،

کون صرف تصویر بنوانے آیا۔


یہ شہر نعروں سے نہیں،

نظام سے زندہ رہے گا۔


سوال صرف یہ نہیں

کہ گل پلازہ کیوں جلا؟

اصل سوال یہ ہے

کہ کراچی کو

کب جلنے سے بچایا جائے گا؟