واپس لوٹ جانا
کراچی، عباد خان
آلارم بج رہا تھا اور عائشہ اب نیند سے بیدار ہونے کی کوشش کر
رہی تھی، موبائل اٹھا کر آلارم کی بار بار بجنے والی آواز کو بند کر کے اس نے بستر سے اٹھنے کا فیصلہ کیا تھا، یہ
غالباٌ تہجد کا وقت تھا جس کے لیے اب وہ
پچھلے 1 سال سے پابندی کے ساتھ اَٹھ جایا کرتی تھی۔ وضو کر کے تہجد ادا کی اور پِھر تلاوت قرآن میں مصروف ہوگئی، یہ عائشہ کا
معمول بن چکا تھا کے وہ تہجد سے فجر تک کے
درمیان قرآن کی تفصیر پڑھا کرتی تھی، ابھی وہ اِس عمل میں کھوئی ہوئی ہی تھی کے
اچانک اس کا موبائل بجا۔
”معذر ت یار تمہیں اِس وقت کال کی“ دوسری طرف اس کی ایک قریبی دوست تھی۔
”نہیں وہ تو کوئی ایسی
بات نہیں مگر خیریت اِس وقت تم نے کال کی اتنی رات کو“
”ہا ں یار عائشہ خیریت
تو نہیں ہے، میرے بابا کو ہارٹ اٹیک آیا ہے“
اس کی دوست نے ہچکچاتے ہوئے فون پر کہا۔
”کب، ابھی کہا ہو تم
لوگ؟“
عائشہ نے گھبرا کر سوال کیا تھا، جواب میں اس کی
دوست نے تفصیل سے اسے اپنے والد کی مو جودہ
صورتحال سے آگاہ کیا جو یقیناً کچھ
خوش عین نہ تھی۔ یہ اس کی بہت ہی قریبی
دوست تھی جو اِس بات سے غالبا اچھی طرح واقف تھی کے عائشہ اِس وقت تہجد اور فجر کے
لیے بیدار ہوتی ہے۔
“امی نے مجھے خاص طور
پر کہا کے عائشہ کو فون کر کے کہو کے دعا کرے بابا کے لیے”
”میں، میں ضرور دعا
کرونگی یار پر میری دعا….“ وہ کچھ حیران سی ہوئے تھی یہ سن کر کے اس سے
خصوصی دعا کے لیے کہا جا رہا ہے۔
”ہاں تم یار، تم جیسے نیک پرہیزگار اور پاکیزہ لوگوں کی دعا
اللہ رد نہیں کرتا، تم پلیز دعا کرنا وہ ٹھیک ہو جائیں“
”انشاء اللہعائشہ کے
زُبان سے یہ لفظ انتہائی گم سم سی کییفیت میں نکلا تھا. یہ کہتے ہوئے وہ اٹھی اور
تسبیح پڑھنے لگی اور فجر کا انتظار کرتے ہوئے سامنے لگے آئینے میں خود کو دیکھنے لگی۔
چند سال پہلےمیوزک بے انتہا شور سے بج رہا تھا
اور اس ماحول میں روشنی بھی برائے نام تھی، کئی نوجوان لڑکے لڑکیاں اپنے ہی دھن میں
کھوئے ہوئے ڈانس فلور پر ناچ رہے تھے، ایک دوست نے پیچھے سے لا کر عائشہ کی طرف شراب کا گلاس بڑھایا۔
”اس کے بغیر تو پارٹی
میں مزہ ہی نہیں آتا“ ناچتی ہوئے مسکرا کر
کہا اور ایک ہی سانس میں وہ گلاس پی لیا اور پِھر یہ سلسلہ چلتا گیا، اِس طرح کی
پارٹیز میں یہ سب کچھ کرنا اس کا معمول
تھا اور اب وہ اپنے دوست کے ساتھ گھر کی جانب واپس جا رہی تھی۔
سگریٹ کا کش لیتے ہوئے اس نے د ھواں گاڑی کے شییشی کے باہر چھوڑا
جس کے لیے شیشہ نیچے کیا، وہ یقیناً نشے میں تھی۔
”یار یہ اِس ٹائم عشاء
کی اَذان کیوں ہو رہی ہے“ گاڑی اس کے گھر
پہنچی تو اسے اَذان کی آواز قریب کی مسجد سے سنائی دی، دوست نے جواب دیا۔
”تمہیں سچ میں کچھ زیادہ چڑھ گئی ہےیہ فجر کی اَذان
ہے، چلو جاؤ گھر آگیا تمہا ر ا“
دروازہ بجایا ہی تھا کے چوکیدار نے دروازہ کھولا، وہ اپنی ہائی ہیل میں جو اِس وقت بہ مشکل سنبھل
پا رہی تھی اندر جانے لگی تب غصے سے پلٹی اور چوکیدار بابا کو ڈانٹنے لگی۔ وہ
شرمندگی سے اس کے لباس کو دیکھ رہا تھا جو گھوٹنے سے بھی اوپر ہونے کے ساتھ
کاندھوں اورگلے سے بھی خالی تھا، یا اس کی اِس حالت کو جو نشے کے بعد تھی اسے دیکھ
کر شرمندہ تھا۔ یہ سمجھنا مشکل ہے۔
”بابا جب میں رات میں
ایسے آتی ہو مجھے لگتا ہے میں اپنے ہی گھر چوری کرنے آئی ہو، کیا گھورنے لگتے ہو
جاؤ کام کرو اپنا یہ کہتے ہوئے وہ اپنے روم میں چلی گئی جہاں پہنچتے ہی اس نے سب سے پہلے اپنی پارٹی کی اور اسی دن
صبح ہوئے ایک فیشن شو ٹ کی تصویریں سوشل میڈیا پر ڈالی. وہ یقیناً پر کشش لگ رہی
تھی اور کیسے نا لگتی ہزاروں کا میک اپ،لاکھوں کے جوڑے اور آدھے سے بھی زیادہ بدن
کی نمائش۔ یہ سب تو ویسے ہی متاثر کون ہے
ہم سب کے لیے، تصویریں اپ لوڈ کرتے لوگوں کو اپنی نمائش کرتے وہی نشے کی حالت میں
اس کی زندگی کا ایک اور دن ختم ہوا اور وہ نیند کی آغوش میں چلی گئی۔ حاضر
حیا الافلاح
کی آواز اس کے کان میں آنے لگی تھی، فجر کی اَذان کے ساتھ وہ اپنے ماضی کی
تلخ یادوں سے باہر آئی، اور واپس مصلحے پر جا کھڑی ہوئی اور نماز ادا کی، سلام
پھرتے ہی اس نے تسبیح پڑھنا شروع کی اور تب ہی اس کے موبائل پر ایک نوٹیفکیشن آیا
تھا۔ اس نے موبائل اٹھا کر چیک کیا تو کسی
نامعلوم پروفائل پر اس کی پُرانی موڈلنگ کی
ایک بے باک تصویر کسی نے اپ لوڈ کی تھی جس
پر کئی لوگ گالیاں ا ور کئی اپنی غلیظ
رائے اور کلمات سے لوگوں کو آگاہ
کر رہے تھے جو سب عائشہ کے حوالے سے تھے۔
موبائل واپس رکھا اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھتے
ہوئے اس نئے کہا۔
”یا اللہ میں اپنے داغ
دار ماضی سے ایک بار پِھر توبہ کرتی ہوں“ یہ کہتے ہوئے وہ ہمیشہ کی طرح دعا میں
ہاتھ اُٹھائے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
”مجھے معاف فرما اور میرے
ساتھ ساتھ ان سب لوگوں کو بھی ہد ا یت فرما جو آج بھی میرے گناہوں کا تذکرہ کھلے
عام کر رہے ہیں“
اور میں آج تک نہیں سمجھ پایا کے گناہ گار کون
ہے عائشہ؟ یا وہ ہزاروں لوگ؟