کراچی سمیت دنیا بھرمیں انڈوں کا عالمی دن منایا
جارہا ہے۔ بچوں کی بنیادی ضرورت ۔۔ پروٹین کی اضافی مقدارانڈےمیں موجود ہوتی ہے۔۔
ماہرین کہتےہیں ناشتے میں انڈوں کا
استعمال لازمی ہونا چاہئیے۔
90 کی دہائی سےپاکستان میں انڈوں کا
عالمی دن منایا جارہا ہے۔۔ طبی ماہرین کہتےہیں
انڈے غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ناشتےسمیت کھانےمیں انڈے کا استعمال لازمی
ہونا چاہئیے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نےورلڈ ایگ ڈے کا
آغازکیا، انڈا باڈی کا امیون سسٹم بہترکرتا ہے، ہڈیوں ، بال ناخن کی نشونما میں
مدد ملتی ہے، ڈبلیوایچ اوسال میں 300 انڈے ایک انسان کوکھانےچاہئیے
کراچی
میں بچوں اوروالدین میں انڈوں کےاستعمال اورانکی اہمیت اجاگرکرنےکیلئےآگاہی
مہم کا آغازکیا گیا ۔۔ یورپی ممالک میں ایک
شخص سالانہ 330 سےزائد انڈےکھاتا ہے۔۔ بچوں نےانڈوں
سےبنےمختلف پراجیکٹس تیارکرکےشہریوں کو آگاہی فراہم کی۔۔
اساتذہ کی جانب سے بھی اس بات پرزوردیا جارہا
ہےکہ والدین کم عمربچوں کوانڈےکھانےکی عادت ڈالیں۔۔ انڈا ایک متوازن غذا ہے۔۔
ماہرین کا کہنا ہےکہ انڈا ایک مکمل غذا
ہےجسکےاستعمال سےنہ صرف خطرناک بیماریوں سےبچا جاسکتا ہےبلکہ خود کوصحت مندبھی بنایا
جاسکتا ہے۔۔