سندھ اسمبلی کی میزبانی میں تین روزہ عالمی کانفرنس اختتام پذیر
کراچی
سندھ اسمبلی نے 14 برس بعد ایک مرتبہ پھر عالمی سطح کی پارلیمانی کانفرنس کی میزبانی کا تاریخی اعزاز حاصل کیا،
جہاں ساتویں سی پی اے ایشیا ریجنل اور دوسری مشترکہ سی پی اے ایشیا و جنوب مشرقی ایشیا ریجنل کانفرنس کامیابی سے منعقد ہوئی۔ تین روزہ کانفرنس کا عنوان:“مستقبل کی پارلیمانیں: اعتماد، شمولیت، جدت اور امن کے ذریعے جمہوریت کی نئی تشریح”۔تھا
کانفرنس میں ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے 4 ممالک اور 17 ریاستی اسمبلیوں سے تعلق رکھنے والے 150 سے زائد اسپیکرز، ڈپٹی اسپیکرز، پارلیمنٹرینز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ افتتاحی، پلینری اور بریک آؤٹ سیشنز میں جمہوری اداروں کی مضبوطی، پارلیمانی ہم آہنگی، عوامی اعتماد، شفافیت، شمولیت، مصنوعی ذہانت، جعلی خبروں، موسمیاتی تبدیلی، ڈیجیٹل گورننس، پارلیمانی احتساب اور علاقائی امن جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
افتتاحی سیشن میں سندھ اسمبلی کے اسپیکر سید اویس قادر شاہ نے مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے سندھ کی تاریخی، تہذیبی اور جمہوری شناخت کو اجاگر کیا اور مکالمے، برداشت اور پارلیمانی تعاون کو امن اور ترقی کے لیے بنیادی ضرورت قرار دیا۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق، سینئر وزیر شرجیل انعام میمن اور دیگر مقررین نے مستقبل کی پارلیمانوں کے لیے اعتماد، شمولیت، جدت اور امن کو بنیادی ستون قرار دیا۔
کانفرنس کے دوسرے روز متوازی بریک آؤٹ اور پلینری سیشنز کے دوران جعلی خبروں، ڈیپ فیک، مصنوعی ذہانت کے غیر ذمہ دارانہ استعمال اور غلط معلومات کو جمہوریت اور عوامی اعتماد کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔ مقررین نے زور دیا کہ قانون سازی، میڈیا کی ذمہ داری اور عوامی آگاہی کے ذریعے ان چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی سے متعلق سیشنز میں کہا گیا کہ ماحولیاتی بحران بالخصوص کمزور اور پسماندہ طبقات کو شدید متاثر کر رہا ہے، جس کے لیے مضبوط قانون سازی اور علاقائی سطح پر مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔ پارلیمانی احتساب سے متعلق سیشن میں بجٹ، آڈٹ اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹیوں کے کردار کو جمہوریت کی مضبوطی کے لیے نہایت اہم قرار دیا گیا۔
پلینری سیشن میں خواتین رہنماؤں کے خلاف آن لائن ہراسانی اور ڈیجیٹل تشدد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے محفوظ ڈیجیٹل ماحول کے لیے مؤثر قانون سازی پر زور دیا گیا۔
تین روزہ کانفرنس کے اختتام پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی موجودگی میں اختتامی تقریب منعقد ہوئی، جہاں متفقہ طور پر “کراچی ڈیکلیریشن” کی منظوری دی گئی۔ اختتامی خطاب میں اسپیکر سید اویس قادر شاہ نے کہا کہ سندھ اسمبلی کی جانب سے عالمی پارلیمانی نمائندوں کی میزبانی ادارہ جاتی اعتماد، شفافیت اور کھلے پن کی عکاس ہے، جبکہ کانفرنس کے دوران ہونے والے مباحث مستقبل دوست اور عملی نوعیت کے تھے۔
سی پی اے کے سیکریٹری جنرل اسٹیفن ٹوِگ نے میزبانی کو مثالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی ڈیکلیریشن جمہوریت، انسانی حقوق، موسمیاتی تبدیلی اور علاقائی تعاون کے حوالے سے مشترکہ عزم کا اظہار ہے۔ سری لنکا، مالدیپ اور ملائیشیا کے نمائندوں نے بھی کانفرنس کو کامیاب، بامقصد اور یادگار قرار دیا۔
کراچی ڈیکلیریشن میں پارلیمانوں کو مضبوط بنانے، عوامی اعتماد کی بحالی، خواتین، نوجوانوں اور پسماندہ طبقات کی شمولیت، ڈیجیٹل گورننس، مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال اور پائیدار امن کے فروغ پر خصوصی زور دیا گیا۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ شفافیت، جوابدہی اور شمولیت کے بغیر جمہوریت مضبوط نہیں ہو سکتی، اور کانفرنس کی کامیابی پر میزبان ٹیم اور تمام شریک وفود کو مبارکباد دی۔
شام کے وقت ملکی و غیر ملکی مہمانوں کے اعزاز میں موہٹہ پیلس میں عشائیے کا اہتمام کیا گیا، جہاں مہمانوں کو سندھی ٹوپیاں اور اجرک کے تحائف پیش کیے گئے۔