سندھ اسمبلی میں ایم کیوایم کے رکن رانا شوکت کی اپنی ہی جماعت کے رکن شارق جمال پر دھکمیاں دینے کی شکایت۔ اسپیکر نے ایس ایس پی اور ایس ایچ او کو سندھ اسمبلی طلب کرلیا۔ اسپیکر چیمبر میں ملاقات کے بعد اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا رانا شوکت اور شارق جمال کے درمیان ہونے والی تلخی ختم ہو گئی
ایم کیو ایم کے رکن رانا شوکت ایڈوکیٹ نے ایوان میں پوائنٹ آف آڈر پر کہا انہیں پرانے پی ایس پی گروپ سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی اقبال محسود نے دھمکی دی ہے۔ میراتعلق ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی گروپ سے ہے۔ انہیں پی ایس پی گروپ کے شارق جمال نے کہا ہے کہ باہر نکلو ہم تمھیں دیکھ لیں گے۔ اس موقع پر وزیر پارلیمانی امور ضیاء لنجار نے کہا اگر ایوان کے رکن کو سیکیورٹی کی ضرورت ہے،، تو میں ایس ایس پی کو ابھی کہہ دیتا ہوں۔اسپیکر سندھ اسمبلی نے ایس ایس پی اور ایس ایچ او کو سندھ اسمبلی طلب کرلیا۔اس موقع پر اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا میں اس معاملے کو دیکھ رہا ہوں ۔ہم آپس میں اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں ۔ اسپیکر اسمبلی نے غیرپارلیمانی گفتگو پر ایم کیوایم کے رکن انجینئر عثمان کی رکنیت معطل کردی ۔ اپوزیشن لیڈر سے کہا آپ اپنے رکن کو ایوان سے باہر لے جائیں۔ جب تک انجینئر عثمان تحریری معافی نہیں مانگیں گے رکنیت بحال نہیں ہو گی۔اسپیکر سندھ اسمبلی اویس قادر شاہ کے چیمبر میں وزیر داخلہ اوررکن سندھ اسمبلی رانا شوکت سمیت دیگر پہنچ گئے۔ ایس ایس پی ساوتھ بھی اسپیکر چیمبر میں موجود تھے۔ ملاقات کے اختتام پر رانا شوکت ایڈووکیٹ نے کہا ہمارا معاملہ نمٹ گیا ہے۔ اسپیکر سندھ اسمبلی نے کہا انجینئر عثمان کی رکنیت معطل رہے گی۔، انھیں اپنے روئیے کی معافی مانگنا ہوگی۔ اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے ہم نیوز سے گفتگو میں بتایا رانا شوکت اور شارق جمال کے درمیان ہونے والی تلخی ختم ہو گئی ہے۔ رانا شوکت کل ایوان میں اپنا موقف بیان کریں گے۔ انجینئر عثمان کے معافی مانگنے سے متعلق سوال پر کہا فی الحال میں اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ تاحال پارٹی قیادت نے ان سے رابطہ نہیں کیا ۔