وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ موجود ہے اور اس حوالے سے ایرانی فریق کو بھی آگاہ کیا گیا ہے۔ ایرانی فریق نے کہا کہ سعودی عرب کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس کی زمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہو۔
اسحاق ڈار کے مطابق ایران اور خلیجی ممالک کی صورتحال ابتر ہے اور فضائی روٹس بند ہیں۔ عمان اور سعودی عرب کے علاوہ دیگر ممالک کی ایئرسپیس بند ہے جبکہ زمینی راستے کھلے ہیں مگر ان میں وقت زیادہ لگتا ہے۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ 972 پاکستانی ایران سے واپس آچکے ہیں جبکہ اس وقت ایران میں 33 ہزار پاکستانی موجود ہیں۔ تہران، زاہدان اور مشہد میں تین سینٹرز فعال ہیں۔ تقریباً 300 ایرانی بھی پاکستان پہنچے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ میں کرائسز منیجمنٹ سیل 24 گھنٹے فعال ہے۔ بحرین اور کویت میں سفارتخانے جبکہ جدہ میں قونصل خانہ فعال ہے۔ ابوظہبی اور دبئی میں بھی پاکستانی سفارتخانے اور قونصل خانے کام کر رہے ہیں۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ ابوظہبی میں ایک پاکستانی شہید ہوا۔ پاکستانیوں کے انخلا میں معاونت پر آذربائیجان کا شکریہ ادا کیا گیا ہے اور باکو سے پروازیں آپریشنل ہیں۔ قطر میں ساڑھے تین لاکھ پاکستانی موجود ہیں جبکہ عراق میں 40 ہزار پاکستانی ہیں جن میں بڑی تعداد زائرین کی ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب میں 25 لاکھ پاکستانی موجود ہیں۔ ہفتے کی صبح جب حملہ ہوا تو وہ مدینہ منورہ میں موجود تھے۔
۔