کراچی ،عمران
الفاظ مقدس ہوتے ہیں
اور انہیں معتبر بنانے والا مصنف جب بھی کوئی
تحریر لکھتاہے،
تو وہ دل میں اترتے محسوس ہوتی ہے،
حسینہ معین کا شمار پاکستان ٹیلی ویژن کے ان
ڈرامہ نویسیوں میں ہوتاہے،
جہنوں نے ہمیشہ سماجی مسئلوں اور انسانی رویوں
پر اپنی تحریریں سپرد قلم کی ہیں ۔
حسینہ معین کےتحریر کردہ
ڈرامے آج بھی یاد کئے جاتے ہیں،
جن میں ان کہی، تنہائیاں، دھوپ کنارے اورآہٹ سر
فہرست ہیں ۔
ڈرامہ آہٹ کے ایک سین میں
ڈرامے کےمرکزی کردار سلمان احمد اور ثانیہ سعید کے گھر جب بیٹی کی ولادت ہوتی ہےتو
وہ پہلے تھوڑا اداس ہوتاہے،پھر خاموش ہوجاتاہے، سوچنے لگتاہے،
کیونکہ اس کا ایک خواب تھا کہ وہ خود ایک اچھا کرکٹر بنے ،
پھر وہ ثانیہ سے کہتا چلوآج خوابوں کا بٹوارہ
کرتے ہیں، اپنے یہ سارے خواب ہم آنے والی نسلوں میں منتقل کرتے ہیں،
جب وہ آئیں تو ہمارے خوابوں کو حقیقیت کا روپ دیں،
سلمان احمد نےسوچ رکھا تھا جب میرا بیٹا ہوگاتو
میں اسے بہترین کرکٹربنائو گا پھر عمران
خان ہمارے گھر آئے گے،
لیکن جب بیٹی کی ولادت ہوئی تو وہ خاموش
ہوجاتاہے، ایک پل کےلیے ٹوٹتا دیکھائی دیتا ہےپھر ثانیہ کو دیکھتے ہوئے کہتاہےکہ دنیا
کے سارے بچے اتنے خوبصورت کیوں ہوتے ہیں جس بچے کو دیکھوں اس پر پیار آتاہےوہ ثانیہ
سعید سے مخاطب ہوکر کہتاہےکہ سنو ! اس کا نام میں صبا رکھوں گا؟
جب میں آٹھ سال کا تھا تو
صبا نام کی ایک لڑکی سے مجھے زبردست عشق ہوا تھا ۔
اس کا نام صبا تھا آج بھی
مجھے کبھی کبھی بےحد یاد آتی ہے۔
ثانیہ سعید مسکراتے کہتی ہے کہ پھر اس نے بھی اپنے بیٹے کا نام
لازمی عامر رکھا ہوگا سلمان احمد کہتاہے کہ ضرور رکھاہوگا ۔۔۔۔
یہ آہٹ ڈرامے کا وہ سین
ہےجو آج بھی مجھے بلکل ذہن نشین ہے اور یاد ہے اس دور میں ہم اسکول میں پڑھا کرتے تھے یہ ان دنوں کی بات ہے،ساتھ کھیلنا کودنا زندگی سے
ہم بھی عام بچوں کی طرح بھرپور لطف اندوزہوتےتھے،رات کو جب ہم ڈرامہ دیکھ لیتے تھے
یا کوئی فلم تو پھر شام میں جب بھی دوست آپس میں بیٹھتے تھے تو اس ڈرامے یا فلم
پر ہم آپس میں لازمی بات کیا کرتے تھے،
میرے بچپن کے دوست سید
ثاقب نے مجھے ایک بار مذاق سے کہاکہ یار ابھی جو ہماری لڑکیاں دوست ہیں کل کو انکی
بھی شادی ہوجائیگی ان کے یہاں بھی اولاد ہوگی کل کو ایسا نہ ہو یہ سین ہماری زندگی
میں بھی حقیقت کا روپ دھار لے، مجھے ابھی بھی اچھی طرح یاد ہے کوئٹہ میں پی ٹی وی کالونی کے بلاک اے اور بی میں سیڑھیوں کے
پاس
کھڑے ہم دو دوست یہ بات مذاق میں آپس میں کسی
کانام لیکر ایک دوسرے کوچھیڑ کرکہہ رہے تھے ،
کئی سال گزر جانے کے بعد
جب صبح آفس پہنچا تو پتا چلا کہ حسینہ معین یعنی حسینہ آپا کا انتقال ہوگیا ہے
تو مجھے وہ سین یاد آیا،ہیڈ آفس سے پہلے
کی طرح ڈیمانڈ کی اس پر جلدی سے کوئی اسکرپٹ لکھ کر دے دیں میں نےجلدی جلدی میں ان کے متعلق اسکرپٹ لکھنے کی کوشش کی وائس اوور کی گئی جب وہ
ایڈیٹنگ کے مرحلے میں گیا اور ایڈیٹر نے
جب اس پیکج کو ایڈٹ شروع کرنے لگا تو
ڈرامہ آہٹ کے کچھ کلپ سامنے آئے میں نے اسے بتایا کہ یار اس ڈرامے میں ایک سین ہےجب سلمان احمد ثانیہ کو
بتاتاہےکہ مجھے ایک لڑکی سے زبردست عشق ہواتھا اس کا نام صبا تھا یہ جملے لگائو
بہت اعلیٰ ہے ۔خیر پیکج تیار ہوگیا چل گیا زندگی ویسے ہی نارمل چلتی رہتی ہے ۔
کبھی کبھی سوچتاہوں کہ بچپن
کے دن کتنے شاندار اور لکھنے والے کتنی گہرائی میں لکھا کرتے تھے ایک اہم بات عام
لفظوں میں بہتر انداز میں لکھنے کا ہنر کوئی ان سے سیکھے۔
پاکستان ٹیلی وژن کے یادگار
ڈرامے ان کہی، تنہایاں، دھوپ کنارے اورآہٹ کی ڈرامہ نویس حسینہ معینہ خالق حقیقی
سے جاں ملیں ہیں ۔۔۔۔ وہ 80 برس کی عمر میں
حرکت قلب بند ہونے سے کراچی میں انتقال کرگئیں تھیں ان کی اردو ادب میں فنی خدمات
کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا لیکن ان کے تحریر کردہ جملے اتنے سالوں بعد بھی
ہمارے ذہنوں پر نقش ہیں ان بہترین رائٹرز کی خدمات کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا
جاسکتا۔
پاکستان میں آج بھی ان
جیسے بہترین ڈرامہ نویس موجود ہےجو اردو ادب کے پودے کی آبیاری میں اپنا بھرپور
کردار ادا کرتے آرہیں یہی لوگ ہماری ثقافت سماج کی بھرپورعکاسی کرتے ہیں۔جن کی
تحریر کردہ چیزیں اتنے سال گزرجانے کےبعد بھی آج بھی بلکل ایسے ہی لگتاہے کہ ابھی
کل ہی کی تو بات ہے۔