تحریر: سہیل میمن
یہ مضمون طویل اور تفصیلی ہے۔ جو دوست سنجیدگی سے معاملے کو سمجھنا چاہتے ہیں وہ وقت نکال کر پڑھیں گے۔ میں کوشش کروں گا کہ ماروی کی سندھ میں دبنگ انٹری کے بارے میں اپنی معلومات آپ تک پہنچاؤں۔ دبنگ انٹری اس لیے کہ ماروی ہر جگہ بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے، چاہے مثبت یا منفی۔
ماروی میمن سابق وفاقی وزیر نثار میمن کی بیٹی ہیں۔ اصل تعلق کیٹی بندر ضلع ٹھٹھہ سے ہے۔ کراچی اور اسلام آباد میں جوانی گزاری اور لندن اسکول آف اکنامکس سے بیچلر اور پھر فرانس کے انٹرنیشنل اسکول آف پیرس سے ایگزیکٹو ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ وہ سندھی، اردو، انگریزی کے ساتھ فرانسیسی زبان پر بھی عبور رکھتی ہیں۔ این جی او اور کارپوریٹ سیکٹر میں سرگرم رہیں اور فوج کے ادارے آئی ایس پی آر میں ڈائریکٹر لیول پر نوکری بھی کی۔ بعد میں مشرف دور میں خواتین کی مخصوص نشست پر ایم این اے بنیں۔ اس وقت ماروی سندھ کے مسائل سے ناواقف تھیں، لیکن گلگت بلتستان میں ترقیاتی کاموں کی وجہ سے وہاں کے لوگ آج بھی انہیں عزت سے یاد کرتے ہیں۔
سندھ کی طرف رجحان
ماروی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ سندھ کی طرف ان کا رجحان سہیل میمن نے پیدا کیا۔ اسلام آباد میں صحافی سہیل میمن نے پہلی ملاقات میں ہی ماروی کو کہا کہ وہ سندھ کے مسائل کیوں نہیں اٹھاتیں۔ ابتدا میں ماروی نے سخت لہجے میں جواب دیا، لیکن بعد میں ملاقاتیں بڑھتی گئیں۔ سہیل میمن نے انہیں جی ایم سید کی کتابیں دیں، سندھ کی سیاست پر بات کی، اور یوں ماروی آہستہ آہستہ سندھ کے مسائل کی طرف مائل ہوئیں۔
کالا باغ ڈیم اور اسمبلی میں جدوجہد
ماروی نے کالا باغ ڈیم کے خلاف ایک تکنیکی دستاویز تیار کروائی، جسے اسمبلی میں بار بار پیش کیا گیا۔ وزیر اعظم گیلانی کے سامنے احتجاج کیا اور ڈیم کے خلاف دلائل دیے۔
2010 کا سیلاب
سیلاب سے ایک ہفتہ قبل ماروی سہیل میمن کے پاس روہڑی آئیں اور کہا کہ خطرناک سیلاب آنے والا ہے۔ انہوں نے پبلک کو آگاہ کرنے کی کوشش کی لیکن کسی نے نہ سنا۔ بعد میں سندھ میں بند ٹوٹ گئے اور تباہی ہوئی۔
مسلم لیگ ن اور الیکشن
ماروی نے ٹھٹھہ سے الیکشن لڑا لیکن ناکام رہیں۔ سہیل میمن نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ کراچی سے الیکشن لڑیں، لیکن انہوں نے اپنے آبائی علاقے کو ترجیح دی۔ اس الیکشن میں سہیل میمن نے ذاتی طور پر مالی مدد بھی کی۔ بعد میں وہ خواتین کی نشست پر دوبارہ ایم این اے بنیں اور بی آئی ایس پی کی سربراہ بھی رہیں۔
حالیہ سرگرمیاں
کئی سال بعد، 8 مارچ خواتین کے دن پر ماروی دوبارہ سامنے آئیں۔ انہوں نے "Historians without Borders" نامی فن لینڈ کی تنظیم کے ساتھ مل کر سندھ کے کیس کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس تنظیم کا مقصد تاریخ کو درست انداز میں پیش کرنا اور امن قائم کرنا ہے۔ ماروی اس پلیٹ فارم کے ذریعے سندھ کے خلاف پروپیگنڈے کا جواب دینا چاہتی ہیں۔
نتیجہ
سہیل میمن کے مطابق، ماروی کو چاہیے کہ وہ اس فورم سے ہٹ کر براہِ راست سیاست میں آئیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کا غلبہ ہے، لیکن ماروی اگر اکیلے بھی کام کریں گی تو زیادہ نمایاں ہوں گی۔ ان کا ایجنڈا برا نہیں، کیونکہ وہ سندھ کے خلاف ٹرولنگ کا جواب دینا چاہتی ہیں۔