کراچی وفاقی حکومت کی جانب سے ڈیزل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کے بعد ٹرانسپورٹرز نے انٹرسٹی بسوں کے کرایوں میں نمایاں اضافہ کردیا ہے، جس سے مسافر شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
مسافروں کا کہنا ہے کہ تہوار ہوں یا عام دن، انہیں من مانے کرائے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ ایک مسافر نے بتایا کہ "پشاور کا کرایہ پہلے پانچ ہزار روپے تھا، اب ساڑھے چھ ہزار روپے ہوگیا ہے۔" دوسرے مسافر نے کہا کہ مہنگائی کے باعث سفر کی تعداد کم کرنی پڑے گی۔
بس اڈہ مالکان کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کے اخراجات بڑھنے اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث نان اے سی گاڑیوں کے کرائے 1500 سے 3000 روپے تک بڑھا دیے گئے ہیں۔ ایک ٹرانسپورٹر نے کہا کہ "حکومت نے بہت بوجھ ڈال دیا ہے، غریب عوام پر رحم کرنا چاہیے۔"
تفصیلات کے مطابق پنجاب کے کم سے کم کرائے میں 1500 سے 2000 روپے تک اضافہ ہوا ہے، کوئٹہ اور چمن کا کرایہ 3 سے 4 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ اے سی سلیپرز کا کرایہ 5 ہزار سے بڑھ کر 8 ہزار روپے ہوگیا ہے۔ سندھ کے کرائے بھی 2 ہزار سے بڑھا کر 3 ہزار روپے کر دیے گئے ہیں۔
مسافروں کا مطالبہ ہے کہ حکومت کرایوں میں اضافے پر قابو پائے تاکہ عام آدمی کے لیے سفر ممکن ہو سکے۔