حمزہ زمان کو نشانہ بنانے والے حملہ آور کون تھے، اور قانون کی گرفت سے کب تک بچ سکیں گے؟

عرفان علی عرفان علی

حمزہ زمان کو نشانہ بنانے والے حملہ آور کون تھے، اور قانون کی گرفت سے کب تک بچ سکیں گے؟


کراچی سپرہائی وے، جمالی پل کے قریب ایک اور فرض شناس اہلکار دہشت گردی کا نشانہ بن گیا۔۔۔ نامعلوم مسلح ملزمان کی فائرنگ سے پولیس ہیڈ کانسٹیبل حمزہ زمان شہید ہوگئے۔۔۔ ڈیوٹی پر جاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے حمزہ زمان کی شادی کو ابھی صرف چھ ماہ ہی گزرے تھے۔۔۔ چار بھائیوں میں تیسرے نمبر پر آنے والا یہ بہادر جوان مختلف تھانوں میں فرائض انجام دیتا رہا اور متعدد مبینہ پولیس مقابلوں میں بھی حصہ لیا۔۔۔ مگر اس بار حملہ آور کی گولیوں نے ایک خاندان کا چراغ بجھا دیا۔۔۔ 

کراچی کے علاقے سپرہائی وے، جمالی پل کے قریب نامعلوم مسلح ملزمان کی فائرنگ۔۔۔ فرض کی ادائیگی کے لیے جانے والا پولیس ہیڈ کانسٹیبل حمزہ زمان زندگی کی بازی ہار گیا۔۔۔


حملہ آوروں کا نشانہ بننے والا ہیڈ کانسٹیبل حمزہ زمان واقعے کے وقت ڈیوٹی پر جا رہا تھا۔۔۔ راستے میں ساتھی اہلکار فواد کے پاس رکا ہی تھا کہ اسی دوران نامعلوم ملزم نے پیچھے سے فائرنگ کردی۔۔۔ گولیاں لگنے سے حمزہ زمان شدید زخمی ہوا، جبکہ حملہ آور موقع سے فرار ہوگیا۔۔۔

زخمی پولیس اہلکار کو فوری طبی امداد کے لیے صفورہ کے قریب واقع نجی اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم حالت تشویشناک ہونے پر عباسی شہید اسپتال لے جایا گیا۔۔۔ جہاں ڈاکٹرز نے اس کی شہادت کی تصدیق کردی۔۔۔

حمزہ زمان سائٹ سپرہائی وے تھانے میں تعینات تھا۔۔۔ ڈیوٹی پر جاتے ہوئے شہید ہونے والے اس جوان کی شادی کو ابھی چھ ماہ ہی ہوئے تھے۔۔۔ چار بھائیوں میں تیسرے نمبر پر آنے والا حمزہ زمان اپنے گھر والوں کے لیے صرف بیٹا اور بھائی ہی نہیں بلکہ ایک بہادر پولیس اہلکار بھی تھا، جس نے وردی پہنی تو فرض کو سب سے مقدم رکھا۔۔۔

حمزہ زمان کے دوستوں کے مطابق شہید ہیڈ کانسٹیبل ایک بہادر اور فرض شناس جوان تھا۔۔۔ جس نے پولیس کے مختلف تھانوں میں ڈیوٹی انجام دی اور کئی مبینہ پولیس مقابلوں میں بھی حصہ لیا۔۔۔ دوستوں کا کہنا ہے کہ حمزہ زمان نے ہمیشہ بہادری سے اپنے فرائض انجام دیے۔۔۔

پولیس حکام کے مطابق حملہ آور نے ہیڈ کانسٹیبل حمزہ زمان کو چار گولیاں ماریں۔۔۔ واقعے کے بعد ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر شیخ نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور تفتیش کا جائزہ لیا۔۔۔

واقعے کا سندھ کے وزیر داخلہ نے بھی نوٹس لے لیا ہے۔۔۔ وزیر داخلہ نے پولیس اہلکار پر حملے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کے لیے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔۔۔ ایک فرض شناس اہلکار تو وطن پر قربان ہوگیا، مگر سوال اب بھی باقی ہے۔۔۔ حمزہ زمان کو نشانہ بنانے والے حملہ آور کون تھے، اور قانون کی گرفت سے کب تک بچ سکیں گے؟