کراچی میں نوجوان تاجر میر رضا علی کیس سربراہ تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے پولیس سرجن کی محض تصاویر دیکھ دی گئی رائے قبل از وقت اور نامناسب ہے۔

عدنان اطہر عدنان اطہر

 کراچی  میں    نوجوان تاجر میر رضا علی کیس سربراہ تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے  پولیس سرجن کی  محض تصاویر دیکھ دی گئی رائے قبل از وقت اور نامناسب ہے۔

 

کراچی  میں    نوجوان تاجر میر رضا علی کیس سربراہ تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے  پولیس سرجن کی  محض تصاویر دیکھ دی گئی رائے قبل از وقت اور نامناسب ہے۔ موت کی حتمی  وجہ کا تعین قانونی تقاضے پورے ہونے پر ہوگا۔

کراچی  گلستان جوہر سے   نوجوان تاجر میر رضا علی کی لاش ملنے  کے  کیس میں اہم پیش رفت۔ کیس کی تحقیقاتی ٹیم اور ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان  نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سے ملاقات کی ۔ کراچی پولیس چیف نے میئر کراچی کو  کیس کی تحقیقات میں پیش رفت سے  آگاہ کیا۔  میئر کراچی کا کہنا تھا پولیس ہائی پروفائل کیس کی مختلف پہلوؤں سے تکنیکی بنیادوں پر تحقیقات کر رہی ہے۔ میر رضا کے قتل کی تحقیقات انتہائی احتیاط اور شفاف انداز میں آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔ میئر کراچی  نے  پولیس کو میر رضاعلی  کے لواحقین سے رابطہ برقرار رکھنے اور تحقیقات  پر انہیں مطمئن کرنے کی ہدایت کی ۔

دوسری جانب سربراہ تحقیقاتی ٹیم ایس ایس پی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو نے کہا ہے   پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ  سید نے میر رضا کی لاش کا پوسٹ مارٹم یا جسمانی معائنہ نہیں کیا۔غیر مصدقہ عوامی بیانات سے تحقیقات متاثر اور لواحقین کو تکلیف پہنچ سکتی ہے۔تحقیقات قانون کے مطابق جاری ہے اور  تمام طبی پہلو نامزد میڈیکل بورڈ طے کرے گا۔ ایس ایس پی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کا کہنا ہے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر پولیس سرجن نے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا تھا۔موت کی حتمی اور سرکاری وجہ کا تعین قانونی تقاضے پورے ہونے پر ہوگا۔ضرورت پڑنے پر میڈیکل بورڈ کی سفارش اور عدالت کی اجازت سے قبر کشائی ممکن ہے۔