ایک اور افغانستان ،پاکستان میں آباد ہونے کو ہے


ایک اور افغانستان ،پاکستان میں آباد  ہونے کو ہے

 

ایک اور افغانستان ،پاکستان میں آباد  ہونے کو ہے

کراچی،عمران
گزشتہ بیس سالوں سے جاری افغانستان میں شورش نے جہاں افغانستان میں سیاسی ،سماجی اور ثقافتی اثرات مرتب کیئے  وہی  ہمسایہ ممالک پاکستان خصوصاً صوبہ بلوچستان پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ دسمبر 1979ء سے شروع ہونیوالی روسی مداخلت سے لیکر نائن الیون کے واقعہ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث جو مسائل سامنے آئے  ان میں لاکھوں افغان مہاجرین نے بلوچستان کا رخ کیا اور یہاں رہائش پذیر ہوئے جس کی وجہ سے بلوچستان میں امن وامان سمیت معاشی مسائل نے جنم لیا۔جس کا سب سے ذیادہ نقصان وہاں پر رہنے والے افراد کو اٹھانا پڑرہاہے۔

صوبے بلوچستان میں اس وقت بلوچستان کی قوم پرست رہنماوں سمیت سیاسی تجزیہ کاروں  کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے 50 فیصد سے زائد کاروبار اس وقت افغان مہاجرین کررہے ہیں جن میں ٹرانسپورٹ،ہوٹلنگ،پراپرٹی،کرنسی سمیت چھوٹے بڑے کاروبار شامل ہیں، کسی حد تک اس بات پر اتفاق بھی کیا جاسکتا کیونکہ  کوئٹہ اور گردونواح کے علاقوں میں بڑی مارکیٹیں  افغان مہاجرین کے ہاتھوں میں ہیں۔

دوہزار سولہ میں افغان مہاجرین کی واپسی کے حوالے سے مرکزی و صوبائی حکومت نے اعلان کیاتھامگر ان کو واپس اپنے وطن بحفظات بھیجنا ان تمام صورتحال میں مشکل ہوتا دکھائی دے رہا تھا اور ایسا ممکن نہیں ہوسکا  کیونکہ صوبہ بلوچستان میں  نہ صرف وہ سیاسی طور پر اثرانداز ہورہے ہیں بلکہ بلوچستان کی معیشت پر بھی ان کا بڑا اثر و رسوخ دیکھا جاسکتا ہے،،،،قوم پرست رہنماء سردار اختر جان مینگل کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں بدامنی کی وجہ طالبانائزیشن ہے،،،،،قوم پرستوں نے جب بھی ان کی مخالفت کی تو انہیں غدار کہا گیا
افغانستان کی بگڑتی صورتحال کی وجہ سے مہاجرین کی آمد کا  سلسلہ آج بھی جاری ہے جو بلوچستان کے لیئے مزید مشکلات اور مسائل کو جنم دے رہا ہے۔

 

 جس کے باعث  1980ء میں حکومت پاکستان  نے ملکی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ” افغان مہاجرین کمشنریٹ “ کے نام سے ایک  ادارے کا قیام عمل میں لایا ، جو افغان مہاجرین کے اندراج ‘خوراک ‘ پانی ‘ صحت ‘ تعلیم ‘ ہنر کاری ‘ اور دیگر سہولتوں کے اہتمام و انتظام کی ذمہ داری انجام دے گی ۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں کوئٹہ،پشین،ژوب،لورالائی جنہیں اگر جنوبی پشتونستان کہا جائے تو بےجانہ ہوگاجہاں افغان مہاجرین مستقل رہائش پذیر ہیں،،،،قوم پرست و سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین کی بلوچستان میں اس قدر مداخلت موجود ہے کہ وہ صوبے میں بھاری اکثریت میں ووٹ دیکر کسی بھی جماعت کو کامیاب کراسکتے ہیں جس کی حالیہ مثال 2013 کے جنرل الیکشن ہیں،،،،، بلوچ قوم پرستوں کا دعوی ہے کہ افغان مہاجرین نہ صرف صوبے کے امان وامان کا مسئلہ بن رہی ہے بلکہ اب تو سیاسی حوالے سے بھی ان کا عمل دخل شروع ہوچکا ہے۔

سانحہ پشاور کے بعد سیاسی و عسکری قیادت اس بات پر متفق ہوئی تھی کہ افغان مہاجرین کی جلد وطن واپسی سے ہی امن وامان کی صورتحال میں بہتری آسکتی ہے،،،،مگر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین کی واپسی اس قدر آسان نہیں بلکہ سویلین و عسکری قیادت کو سخت فیصلے کرنے ہونگے جو کہ کچھ وجوہات کی بنا ایسا نہ ہوسکا۔

ملک میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات نے صورت حال بدل دی ہے دوہزار سولہ میں بیشتر افغان مہاجرین کو دہشت گردی کا موجب سمجھا جاتا تھا جس کے باعث اس وقت کےنیشنل ایکشن پلان کے تحت سویلین و عسکری قیادت نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا تھا کہ  کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ملک میں امن وامان کی صورتحال میں بہتری آسکے،،،،، اس وقت بلوچستان کےصوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ 2015 تک افغان مہاجرین کی واپسی کو یقینی بنائینگے لیکن ایسا ممکن نہ ہوسکا۔

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں مقیم افغان مہاجرین نے جائیدادیں خریدی ہیں،،،،وہیں قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بنارکھے ہیں،،،ان حالات میں سیاسی جماعتوں کا موقف ہے کہ افغان مہاجرین کی موجودگی کے باعث ملک میں امن قائم نہیں ہوسکتا

بلوچستان میں بدامنی کی وجہ مذہبی انتہاء پسندی کو قرار دیا جاتا ہے مگر افغانستان میں سوویت یونین اور نائن الیون جیسے واقعات کے بعد ملک میں بدامنی کی وجہ افغان مہاجرین کو قرار دیا جاتا ہے اس وقت کے وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا کہنا تھا کہ صوبے میں دہشت گردی کے اہم واقعات میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے جنہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے گی صوبے کو پُرامن بنانا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے
بلوچستان سمیت افغان  مہاجرین کا ملک بھر میں پھیلنا اس بات سے کوئی بھی ذی شعور انکار نہیں کرسکتا، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صوبے بلوچستان سمیت ملک بھر میں خصوصاَ دیگر ملک سے آنے والے مہاجرین ملک کیلئے مشکلات کاباعٖث بن رہی ہے۔

دوہزار سولہ میں بلوچستان سے لاکھوں افغان مہاجرین بحفاظت وطن واپسی شاید اتنا آسان نہ ہو مگر حکمرانوں کی جانب سے جب تک ٹھوس و کڑے فیصلے ہی مہاجرین کی بحفاظت وطن واپسی کو ممکن بنا سکتی ہے کیونکہ عرصہ دراز سے افغان مہاجرین کی واپسی کیلئے محض اعلانات کیے گئے مگر اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا جس کے باعث آج بھی ان کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

حالیہ افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد اس کے منفی اثرات پورے پاکستان پر پڑے گے ، شروع میں تو افغانی کوئٹہ اور پشاور میں ٹہرتےہیں لیکن بعد میں بہتر روزگار کےلیے یہ تمام  افراد کراچی کا رخ کرتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ ہر دس قدم بعد کراچی میں ایک پٹھان کی ہوٹل ، کوئی کراچی کا کونہ کیوں نہ وہاں پر یہی صورتحال دیکھی جارہی ہے۔آنے والے وقتوں میں شاید کراچی کا بھی آہستہ آہستہ تمام کاروبار کوئٹہ کے افغانیوں کی طرح کراچی کا کاروبار بھی افغانیوں کے ہاتھ میں نہ آجائے ، جس کا سب سے ذیادہ نقصان کراچی میں بسنے والے افراد کو اٹھانا پڑےگا، کراچی میں قیام پاکستان کے بعد 1972 میں سندھی اور مہاجرین کے درمیان جھگڑا اختیارات اور برابری کا ہی رہاہے وہ دونوں اقوام ابھی تک نعرے بازی اور بیان بازی میں ہی مصروف ہے تو آنے والے وقتوں میں کہیں ایک تیسری طاقت اٹھ کر ان کے اوپر حکومت نہ کررہی ہو۔

حالیہ کراچی میں افغانستان سے آئے چار سو گھرانوں کو رجسٹرڈ کیا گیا ہے۔یہ لوگ مزدوری کرےگے ، پھل فروٹ بیچے گے اور کچھ عرصے بعد یہاں کے مقامی افراد کہلانا پسند کرےگے،
جن کو سیاسی جماعتوں کی پناہ  بھی حاصل ہوگی اور زبان کا بھی فائدہ پہنچایا جائےگا ۔حکومت پاکستان کو اپنے علاقوں کے لوگوں کو اقلیت میں بدلنے سے پہلے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے ورنا  ایک اور افغانستان اس سرزمین پر بھی جلد آباد ہونے کو ہے۔