چہرہ ویب ڈیسک
افغانستان میں خواتین کو سرکاری نشریاتی میں داخلے سے روک
لیا گیا
خواتین صحافی کو سرکاری نشریاتی ادارے آرٹی اے میں روزانہ
کی طرح جب وہ آفس پہنچی تو انہیں اطلاع
دی گئی کہ وہ عمار ت کے اندر داخل نہیں ہوسکتی۔
طالبان کے زیر اثر آتے ہی افغانستان کے دارالحکومت کابل
میں سرکاری ایجنسیز اور سرکاری نشریاتی ادارے کا کنٹرول سبھال لیا ہے۔
ان دنوں سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی ویڈیو پوسٹ آرٹی اے
کی نیوز اینکر شبنم خان داوران کا کہناہےکہ مرد ساتھیوں کو تو عمارت میں جانے کی
اجازت دی گئی تاہم انہیں واپس بھیج دیا گیا۔
شبنم کا کہناتھاکہ میں نے اپنی شناخت کرائی آفس کارڈ تک
دیکھا یا لیکن اس کے باوجود بھی انہوں نے مجھے اندر جانے سے روک دیا ۔
شبنم کو کہا گیا کہ حکومت تبدیل ہوچکی ہے اب آپ اپنی نوکری جاری نہیں رکھ سکتی۔
آرٹی اے ایک میزبان خدیجہ امین کانجی نشریاتی ادارے طلوع
نیوز گفتگو میں ان کاکہناتھاکہ انہں دفتر داخل نہیں ہونے دیا گیا ۔
خدیجہ کےمطابق نئے تعینات کئےگئے ڈائریکٹر نیوز سے انہوں نے
بات کی ہے تاہم انہوں نے انہیں کہا ہےکہ ہم بات کرکے آپ کو بتا دینگے۔
صحافیوں کا کہناہےکہ طالبان کی حکومت آنے کے بعد وہ بےحد
پریشان ہے۔