پاکستان کے شہرت یافتہ
معالج ، سماجی کارکن اور سینکڑوں کتابوں کے مصنف حکیم محمد سعید کی گزشتہ روز 23 ویں
برسی منائی گئ۔ انسانیت کا دردرکھنے والی
شخصیت کو امن دشمنوں نے 23سال پہلے آج ہی کے دن شہیدکردیا تھا ۔
حکیم محمد سعید ایک
عہد ساز شخصیت تھے جنھوں نے اپنی زندگی پاکستان کے لیے وقف کردی۔۔ تعلیم کے فروغ ،
بچوں کی ذہن سازی اور طب کا فروغ ان کی تمام تر جستجو کا محور تھا۔۔اُنہوں نے
انسانیت کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایااور آخر دم تک اپنے مقصد سے پیچھے نہ ہٹے ۔۔۔
دکھی انسانیت کے
مسیحا حکیم محمد سعید 9 جنوری 1920 کو نئی دہلی میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے
بعد اپنا سب کچھ چھوڑ کر 1948 میں کراچی
آئے ۔
حکیم سعید نے
بچوں کیلئے ہمدرد نونہال رسالہ شروع کیا جو مقبولیت کے باعث آج تک جاری ہے۔حکیم
سعید مذہب اور طِب و حکمت پر 200 سے زائد کتب
کے مصنف بھی ہیں۔ اُن کے قائم کردہ ادارے ہمدرد پاکستان اور ہمدرد یونیورسٹی
سے لوگ آج بھی مستفید ہورہے ہیں ۔۔۔
حکیم محمد سعید
1993 سے 1996 تک سندھ کے گورنر رہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف پر انکو ستارہ امتیاز
اور نشان امتیاز سے بھی نوازا گیا ۔
حکیم سعید 17
اکتوبر 1998 کی صبح آرام باغ میں اپنے دواخانہ پہنچے ہی تھے کہ انسانیت دشمنوں نے
فائرنگ کرکے اُنہیں شہید کردیا ۔حکیم محمد سعید کو ہمدرد یونیورسٹی میں ہی سپرد
خاک کیا گیا ہے ۔