سندھ کے ساتھ اظہار یکجہتی کی یہ پہلی آواز پنجاب سے اٹھی ہے.

جنہوں نے اس ملک میں رچنے اور بسنے والوں کو واضح پیغام دیا ہے پاکستان امستحکم ہے اور پہلے سے کہیں ذیادہ مضبوط ہے

یہاں پر بسنے والی تمام اکائیاں جاگ رہی ہے اور وہ اپنے وطن اور حقوق کا تحفظ کرنا جانتی ہیں ،
بحریہ ٹاؤن اور قبضہ مافیاں بلڈرز خلاف احتجاج جو سندھ سے شروع ہوا تھا اب یہ آوازیں پنجاب کی گلی کوچوں میں گونج اٹھی ہیں.

پنجاب کے ترقی پسند تنظیموں نے، چیئرمین رواداری تحریک پاکستان سیمسن سلامت کی قیادت میں سندھ پر قبضے کی سازشوں کے خلاف زبردست احتجاج ریکارڈ کر کے وارث میر اور فیض احمد فیض کے بعد پنجاب میں ایک نئی تاریخ رقم کردی .

حقیقت میں یہی لوگ پاکستان سے پیار کرنے والے، اس ملک کے حقیقی خیرخواہ اور اس ملک میں بسنے والے اقوام کو جوڑےرکھنے کے خواہاں ہیں.

یہی لوگ حقیقی محب وطن ہیں. باقی سب اداکار ہیں رہنماؤں کا کہنا تھاکہ ہمیں امید ہے کہ ترقی پسند پنجابی اور سرائیکی دوستوں کی طرح اس ملک کی اشرافیہ بھی اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کر کے ایک دن سندھ کو گلے لگانے کی کوشش کرے گی. ا

یہ ملک اتفاق، ترقی، امن اور انصاف کا گہوارہ بنے گا.
مظاہرے میں تمام شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی.

احتجاجی مظاہرہ دو گھنٹے تک جاری رہا.
یہ انوکھا احتجاج تھا جس میں شاعری علم ادبی یکجہتی بول رہی تھی.
پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو ،حقوق خلق موومنٹ اور عورت مارچ نے بحریہ ٹاؤن کےجانب سے سندھ کی زمینوں پر قبضہ کےلیے ہم آواز ہوکر اپنے اہل وطن کے ساتھ کھڑے ہوگئے ہیں.