کراچی، عرفان علی
کراچی کو سنوارنے والے اجڑے گھروں میں
رہنے پر مجبور ، کے ایم سی نے خاکروبوں کو کھنڈر نما گھر وں میں بسایا ہوا ہے، رنچھوڑ
لائن نارائن
پورہمیں قائم میگھجی بھگوان جی سیوپرز کوارٹرز انتہائی خستہ حالی کا شکار
ہے عمارت کا روز ہی کچھ حصہ گر جاتا ہے،
یہ کوئی
تاریخی آثار نہیں
اس عمارت کی خستہ حالی کو دیکھ کر انسانی بے بسی پر رونا آتا ہے۔
کاش کسے سمجھ آئے۔۔۔! یہاں
پر بھی بسنے والے سانس لیتے ہیں،خواب
دیکھتے ہیں ،سوچتے ہیں
رن چھوڑ لائن میں موجود
،نارائن پورہ کے نام سے جانی جانے والی اس عمارت میں اب بھی کئی زندگی بستی ہیں۔
کے ایم سی خاکروب اسی
کھنڈرنما عمارت میں رہنے پر مجبور ہے۔ عمارت میں جیسے ہی اندر داخل ہوتے ہیں تو کچرے کا ڈھیر استقبال کی صورت میں موجود نظر
آتاہے،سیڑھیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار کسی ممکنہ حادثے کی پیش گوئی کرتی دیکھائی دیتی
ہے
کے ایم سی خاکروب کہتے ہیں روزانہ کی
بنیاد پر عمارت کا کچھ حصہ گر جاتا ہے عمارت میں رہنے والے خوف کے سائے میں زندگی
بسر کرنے پر مجبور ہے۔
کے ایم سی سمیت سندھ حکومت کے اعلی
حکام اس عمارت کا کئی بار دورہ کر چکے ہیں لیکن تا حال نا ہی عمارت کو خالی کرایا
جا سکا نہ ہی انہیں کوئی متبادل جگہ فراہم
کی جاسکی ہے،شہر میں آئے روز مخدوش عمارتوں کے گرنے کے واقعات پیش آتے ہے لیکن
انتظامیہ حادثہ پیش آںے کے بعد ہی حرکت میں آتی ہے۔