سندھ میں کئی ماہ تاخیر کے بعد نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوتے ہی والدین کی پریشانی میں اضافہ


سندھ میں کئی ماہ تاخیر کے بعد نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوتے ہی والدین کی پریشانی میں اضافہ

 

 

 

 

کراچی،نزاہت خان

سندھ میں کئی ماہ تاخیر کے بعد نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوتے ہی والدین کی پریشانی میں اضافہ ہوگیا۔ کتب بازاروں میں پہلی سے بارہویں جماعت کی درسی کتب دستیاب نہیں ۔ اسٹیشنری کی قیمتوں میں اضافے نے بھی شہریوں کو پریشان کردیا۔

کراچی سمیت سندھ بھر میں تعلیمی ادارے کھلنے کے بعد نئے تعلیمی سیشن کا آغاز ہوا تو والدین نے سکھ کا سانس لیا۔ مگر والدین کی پریشانی اس وقت بڑھ گئی جب وہ درسی کتب کی خریداری کے لیے پہنچے۔۔

شہر کے اردو بازاروں اور دکانوں پر سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی نئی درسی کتب دستیاب نہیں۔ والدین کہتے ہیں کتابیں بھی دستیاب نہیں اور اسٹیشنری کی قیمتوں میں بے انتہا اضافہ کردیا گیا ہے،،

 اس سے پچھلے سال کچھ تھا  اب تو  کتابیں بہت زیادہ مہنگی ہوگئی ہے کچھ تو مل رہی اور کچھ مل نہیں رہیں جس کے لیے باربارآنا پڑ رہا ہے

دکانداروں کا کہنا ہے کہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتابوں کے حصول کے لیے والدین کی بڑی تعداد آرہی ہے۔ مگر مایوس لوٹ رہی ہے،،،

سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے درسی کتب کی عدم دستیابی پر کوئی موقف سامنے نہیں آسکا۔ والدین اسکولوں کی طویل بندش کے بعد ماہانہ فیسوں کی ادائیگی کے حوالے سے بھی پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔