کراچی،عرفان علی
سندھ کے جزائر وفاق کے سپرد کرنے کے خلاف درخواست ۔ چیف جسٹس
نے سیکریٹری جنگلات سے کہاکہ جزیروں کو اون
کیوں نہیں کرتے۔ گول مول جواب دینے والے کو
سیکریٹری رہنے کا حق نہیں۔ چیف سیکریٹری کو بلالیتے ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ میں سندھ کے جزائر وفاق کے سپرد کرنے کے خلاف درخواست
کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس ،،،،سیکریٹری جنگلات
کے جواب پر برہم ہوگئے۔ ریمارکس دیئے یہ کیا گول مول جواب جمع کرایا ہے۔بنڈار اور دیگر
جزائر کی زمین کس کی ہے۔سیکریٹری جنگلات نے بتایا کہ جزائر کی زمین پورٹ قاسم کودی
تھی۔ زمین صوبے کی ملکیت ہے۔ صوبے کے پاس ہونی چاہیے تھی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے یہ کیا بات ہے۔ ہونا چاہئے۔
کیوں ہونا چاہئے؟ یہ بتاو زمین صوبے
کی ہے۔ صوبے کی زمین کو اون کیوں نہیں کرتے۔ آپ کی ذاتی زمین ہوتی تو اون کرتے ،،،صوبے
کی زمین کو اون نہیں کررہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کیا جزائر کی زمین کسی بلڈر کو دینی
ہے ۔۔اور مال بنانا ہے۔ زمین صوبے کی ہے اور مینگروز کے جنگلات بھی محفوظ ہیں۔ ایسے
افسر کو سیکریٹری رہنے کا کوئی حق نہیں ،،، جو گول مول جواب دے۔ ہم چیف سیکرٹری سندھ
کو بلاتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں بلیک اینڈ وائٹ جواب چاہیے۔ جزائر کی زمین کس کی
ملکیت ہے۔ باہر بیٹھیں اور آج ہی لکھ کردیں۔