چیف
جسٹس پاکستان سکھر کی تباہ حالی اور کچھوؤں
کی دیکھ بھال نہ ہونے پربرہم۔ کچھوؤں کے لئے دریا سے نہر تک جانے کے لئے محفوظ راستہ
بنانے کا حکم دے دیا۔ ریمارکس دیئے ڈولفنز بھی ساری ختم کردی گئیں۔ کرتے کیا ہیں یہ
لوگ۔
سپریم
کورٹ کراچی رجسٹری میں لب مہران پارک سکھر
پر غیر قانونی تعمیرات اور قبضہ کے معاملے پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار
احمد نے ریمارکس دیئے کہ دریائےسندھ سے ہزاروں
کچھوے نکلتے ہیں۔ کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہیں۔سکھر انتظامیہ کا حال ہمارے سامنے
ہے ۔ہمیں سب پتا ہے۔سارے کچھوے گاڑیوں کے نیچے
آکر مرجاتے ہیں ۔ڈولفنز بھی ساری ختم کردی گئیں۔ کرتے کیا ہیں یہ لوگ ۔ کچھوؤں کو ایک
محفوظ راستہ نہیں دے سکے،، تاکہ وہ دریا سے نکل کر نہر میں چلے جائیں ۔
سپریم
کور ٹ نے کہا کہ دریا سے نکلنے والے کچھوئوں
کی ہر ممکن حفاظت کے اقدامات کیے جائیں۔سندھ حکومت اور سکھر انتظامیہ کو کچھووں کےلئے محفوظ راستہ بنانے کا حکم دے دیا۔ وائلڈ لائف، سیکریٹری آب پاشی، کمشنر سکھر
کو بھی آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ دورا ن سماعت وکیل نے بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ نے لب مہران پارک کا
انتظام محکمہ آب پاشی کے حوالے کردیا تھا ۔ پارک کا انتظام سکھر میونسپل کاپوریشن کے پاس تھا، ہمیں واپس دیا جائے ۔ عدالت نے کہا کہ حکومت نے انتظام لے لیا،،، تو حکومت کو آنے دیں،، آپ کا کیا
مسئلہ ہے۔ آپ کاکوئی حق نہیں بنتا ، ہینڈڈ اوور سے پارک کی ملکیت
کا دعوی نہیں کرسکتے ۔