ایم کیو ایم کے کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کہتے ہیں شہر میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں نوجوانوں کے قتل پر چیف جسٹس سوموٹو کیوں نہیں لیتے؟
ہم اپنے بچوں کے ہاتھوں میں ہتھیار نہیں دیکھنا چاہتے کیوں مجبور کیا جا رہا ہے کہ اپنی حفاظت کا خود بندو بست کریں
ایم کیو ایم کی جانب سے مستحقین کو امدادی سامان کی فراہمی کی تقریب منعقد ہوئی
میڈیا سے بات کرتے ہوئے کنوینئر ایم کیو ایم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ کراچی میں پچاس سے زائد لوگ ڈاکوؤں کے ہاتھوں مارے گئے مگر سندھ حکومت نے آواز نہیں اٹھائی ۔
ہم سے احتجاج کرنے اور سوگ منانے تک کا حق چھین لیا گیا ہے اس طرح کی نا انصافیوں سے گھر نہیں چلا کرتے ملک کیسے چلے گا ۔
وفاقی وزیر داخلہ کراچی آئیں اور ہمیں جواب دیں ۔۔ اس شہر نے ہمیں منڈیٹ دیا ہے اور ہم اپنے ووٹرز کو جوابدہ ہیں ۔۔ سینئر ڈپٹی کنوینر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ریاست اپنا کام نہیں کر رہی ہے۔ جبھی ہمیں امداد دینی پڑ رہی ہے ، ایم کیو ایم کو موقع ملا تو امداد لینے والے امداد دینے والوں میں تبدیل ہو جائیں گے