پاکستان کے نامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر
عبدالقدیر خان 85 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان پھپڑوں کے عارضے میں مبتلا
تھے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا لیکن انکی طبعیت سبھلنے کے بجائے مزید بگڑتی گئی
اور انتقال کرگئے۔
چہرہ ذرائع کےمطابق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو صبح
6 بجے کے قریب کے آر ایل اسپتال ایڈمٹ کیا گیا تھا جہاں ڈاکٹر نے ایٹمی سائنسدان کو بچانے
کی پوری کوشش کی تاہم صبح 7 بجکر چار منٹ پروہ دارفانی سے کوچ کرگئے۔
صدر پاکستان عارف علوی کا کہناہےکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال کے بارے میں جان کر بہت دکھ ہوا، ڈاکٹر عبدالقدیر
خان کو ذاتی طور پر 1998 سے جانتا تھا،
انہوں نے ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا، قوم اس سلسلے میں ان کی خدمات کو
کبھی نہیں بھولے گی
شہباز گل نے کہاکہ پاکستان کے محسن ڈاکٹر عبد القدیر خان کی وفات کی خبر سن کر دل انتہائی رنجیدہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا
پاکستان کے دفاع کو مضبوط تر بنانے کا احسان اور قرض اس ملک کا بچہ بچہ ہمیشہ یاد
رکھے گا۔
وزیر داخلہ شیخ رشید احمدکا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پرگہرے دکھ اورغم
کا اظہار
کیاہے اللہ تعالی محسن پاکستان کو جنت الفردوس میں اعلی ترین مقام عطا فرمائے۔
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا محسن پاکستان نامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد
القدیر کی رحلت پر غم اور افسوس کا اظہار، ڈاکٹر عبد القدیر کی وفات قومی سانحہ ہے
سابق وزیراعظم و اپوزیشن لیڈر سینٹ سید یوسف رضا گیلانی کا پاکستان کے ایٹمی
سائنسدان اور ایٹمی پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پر شدید دکھ و
افسوس کا اظہار
ڈاکٹر عبدالقدیر محسنِ پاکستان ہیں، ایٹمی پروگرام دیکر جو انہوں نے قوم پر
احسان کیا وہ ہمیشہ یاد رکھا جائیگا،
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما شہباز شریف نے کہاکہ آج قوم ایک سچے محسن سے
محروم ہو گئی ہے، ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے دل و جان سے مادر وطن کی خدمت کی، ڈاکٹر
عبدالقدیر خان کا انتقال ملک کے لیے بہت بڑا نقصان ہے، پاکستان کو ایٹمی طاقت
بنانے میں ان کا کردار مرکزی ہے، اللہ ان کی روح پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے
امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پر گہرے دکھ و
افسوس کا اظہار۔ صوبائی وزیر ہائیر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں کااظہار تعزیت
پاکستان کے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پر گورنرسندھ عمران
اسماعیل کا اظہار افسوس مرحوم کی مغفرت، درجات کی بلندی اور لواحقین کے لئے صبر جمیل
کی دعا
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے
انتقال پر گہرے دکھ کااظہار ڈاکٹر عبدالقدیرخان
کی ملک کے لیے خدمات ہمیشہ یاد رکھی
جائیں گی
معروف سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان 1936 میں
بھارتی شہر بھوپال میں پیدا ہوئے اور تحریک آزادی کے بعد 1947 میں اپنے اہل خانہ
کے ہمراہ پاکستان آئے۔
انہوں نے انجینئرنگ کی ڈگری 1967 میں نیدر
لینڈز کی ایک یونیورسٹی سے حاصل کررکھی تھی۔بیلجیم کی یونیورسٹی سے میٹلر جیکل
انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی،ایمسٹرڈیم میں فزیکل ڈائنا مکس ریسرچ لیبارٹری
جوائن کی۔
مئی 1998 میں پاکستان نے بھارتی ایٹم بم کے
تجربے کے بعد کامیاب تجربہ کیا جس کی نگرانی ڈاکٹر قدیر خان نے ہی کی تھی ۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان پہلے پاکستانی ہے جنہیں 3 صدارتی ایوارڈز سے نوازہ گیا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو دوبار نشان امتیاز بھی
دیاگیا اس کے علاوہ انہیں ہلال امتیاز سے
بھی نوازا گیا ۔