کراچی میں شہری جہاں بنیادی سہولیات سے محروم ہیں وہی شہر
کے بڑے قبرستان بھی حکومتی ناہلی کی داستان سنا رہے ہیں۔ سخی حسن اور محمد شاہ
قبرستان میں سیوریج اور برساتی پانی قبروں کونقصان پہنچا رہا ہے۔
یہ کراچی کے دو بڑے قبرستان ہیں جہاں حکومتی اداروں کی عدم سنجیدگی کے باعث
گندگی کے ڈھیر ہی نہیں سیوریج اور بار ش
کا پانی بھی جمع ہے۔
51 سال
قبل بنائے گئے محمد شاہ قبرستان میں قریبی
آبادی کا سیوریج کا پانی داخل ہوگیا ۔ قبریں
گندے پانی کی زد میں ہیں۔ قبرستان کی سڑک
پر سیوریج کا پانی ہی نہیں جمع ۔۔ سڑک شدید ٹوٹ پھوٹ کا بھی شکار ہے ۔
دو مہینے
بعد لوگوں کو خیال آیا جب انسان تکلیف میں آیا سارے مل کرملبہ ڈلواکے پوری سیوریج
کی لائن ختم کردی
جب بڑے ساحب
کی میت آتی ہےتو جھاڑوواڑو لگانے آجاتے ہیں روڈوں کے پاس سے کچر لےجاتے ہیں
سخی حسن
قبرستان سے بھی تاحال برساتی پانی کی نکاسی نہیں
ہوسکی،،،،، جس کے باعث سڑک پر کیچڑ اور گندگی حکومتی نااہلی کی داستان سنا
رہی ہے ۔
نہ سیوریج
کا کام کیا جاتا ہے نہ روڈوں کا کام کیا جاتا ہے اس بار تو پھر ملبہ ڈال دیا گیا
ہےورنہ بہت زیادہ برا حال ہوتا ہے
پانی کی
ڈھلان اسی سائیڈ ہےلوگ آجا نہیں سکتے جن کی قبریں ہیں اُن کے پیارے بھی آجا نہیں
سکتے
شہر خموشاں
میں مدفن اپنے پیاروں کی قبروں پر آنے والے افراد کہتےہیں حکومتی نااہلی کے باعث
قبرستان آنا محال ہو گیا ہے۔ کچھ لوگ اپنی مدد آپ
کے تحت ٹوٹی سڑک پر ملبہ ڈال رہے ہیں لیکن سڑک کی تعمیر ضروری ہے ۔