حکومت کس قسم کی قانون سازی کرنا چاہتی ہے اور اپوزیشن اس کی مخالفت کیوں کر رہی ہے۔

عدنان اطہر عدنان اطہر

حکومت کس قسم کی قانون سازی کرنا چاہتی ہے اور اپوزیشن اس کی مخالفت کیوں کر رہی ہے۔

سندھ اسمبلی نے صوبے میں تجاوزات کے معاملے پر قانون سازی کےلیے قرار داد کثرت رائے سے منظور تو کرلی لیکن اس قرارداد کے ذریعے حکومت کس قسم کی قانون سازی کرنا چاہتی ہے اور اپوزیشن اس کی مخالفت کیوں کر رہی ہے۔

سندھ اسمبلی میں پیش کی گئی حکومتی قرارداد کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ انسانی المیے سے بچنے کے لئے جو تعمیرات ہوچکی ہیں انہیں ریگولرائز کیا جائے تاکہ کوئی بے گھر نہ ہو ۔۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے شہریوں نے اپنی جمع پونجی سے مختلف مقامات پر گھر خریدے جن میں وہ  رہائش پزیر ہیں۔ یہ سب کچھ تصدیق شدہ کاغذات کی بنیاد پر ہوا۔اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ  وہ لوگوں کی سرمایہ کاری اور جائیداد کو محفوظ بنائے تاکہ ان کا اعتماد بحال ہو۔۔

 اور اگر اسمبلی یہ قانون منظور کرلے گی اور کس صورت میں کرے گی نہیں معلوم اُس کے بعد ہم ایک قدم آگے بڑھ کر ان آبادیوں کوبچانے کی کوشش کریں گے اور معزز عدالتوں میں جاکر اس قانون کی روشنی میں درخواست کریں گے کہ ان عمارتوں کو گھروں کو ریگلرائز کرنے کی اجازت دی جائے

اپوزیشن اراکین کا کہنا ہے کہ حکومت سے نسلہ ٹاور کے معاملے پر قرارداد لانے پر بات ہوئی تھی لیکن پھر اچانک ایک ایسی قرارداد پیش کی گئی جس کے ذریعے ہونے والی قانون سازی عدالتی فیصلوں کے مخالف ہے۔۔

 ہمیں کہا گیا کہ نسلہ ٹاور پرقرارداد ہوگی پوری قرارداد میں نسلہ کہیں نہیں ہم بھی عوام کے ساتھ ہیں

قرارداد میں زور دیا گیا ہے کہ حکومت عوام کے مفاد کے  لئے قانون سازی کرے تاکہ کوئی شخص بے گھر نہ ہو ،، اور ان سرکاری ملازمین کے خلاف کاروائی کی جائے جنہوں نے تعمیرات کے لئے اجازت نامے جاری کئے۔۔