کراچی میں یومیہ آگ لگنے کے اوسطا چھ واقعات رپورٹ ہونے لگے۔

عرفان علی عرفان علی

کراچی میں  یومیہ آگ لگنے کے اوسطا چھ واقعات رپورٹ ہونے لگے۔

کراچی میں  یومیہ آگ لگنے کے اوسطا چھ واقعات رپورٹ ہونے لگے۔۔۔رواں سال شہر میں آتشزدگی کے چھوٹے بڑے لگ بھگ 19سو واقعات پیش آچکے ہیں۔۔۔محکمہ فائر بریگیڈ کو چین سے درآمد شدہ نئے فائر ٹینڈرز تو دے دئیے گئے  مگر نظام اب بھی پرانی طرز پر  چل رہا ہے


بے ہنگم انداز میں روز بہ روز وسیع ہوتے  شہر قائد  میں جہاں دیگر مسائل میں اضافہ ہورہا ہے وہیں   آگ لگنے کےواقعات میں بھی تیزی آرہی ہے۔۔۔بلدیہ عظمی کراچی  کے محکمہ فائر بریگیڈ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ رواں سال اب تک کراچی میں  آگ لگنے  کے چھوٹے بڑے 19سو واقعات پیش آچکے ہیں۔۔

شہر میں آتشزدگی کے سب سے زیادہ 232واقعات صدر فائر اسٹیشن  کی حدود میں ہی پیش آئے۔،ناظم آباد فائر اسٹیشن میں  169،سائٹ فائر اسٹیشن  میں 151 جبکہ کورنگی فائر اسٹیشن کی حدود میں آگ لگنے کے 135 واقعات رونما ہوئے۔۔۔

فائر بریگیڈ ذرائع کا  بتانا ہے کہ شہر کے مصروف ترین  تجارتی مرکز  صدر میں فائر اسٹیشن تو  واقع ہے  مگر یہاں فائرٹینڈرز کو فراہمی آب کے لئے بچھائی گئی لائن سے پانی چور کرلیا جاتا ہے۔ صدریا اطراف میں آگ لگنے کی صورت میں  پانی دیگر فائر اسٹیشن سے بھر کے لایا جاتا ہے یا واٹر بورڈ کے   باؤزر فراہمی آب کو یقینی بناتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ صدر کو آپریٹیو  اور وکٹوریہ مارکیٹ میں  حال ہی میں لگنے والی آگ پر بیشتر تاجر پانی کی کمی پر   فائر بریگیڈکی کارکردگی سے نالاں نظر آئے


ذرائع بتاتے ہیں کہ  ماضی میں محکمہ فائر بریگیڈ  کو میسر  ایک فائر ٹینڈر میں 22سو گیلن پانی کی گنجائش ہوتی  تھی مگر نئے فائر ٹینڈرمیں محض 16سو گیلن پانی  رکھا جاسکتا ہے۔فائر بریگیڈ حکام  کہتے ہیں کہ موسم سرما کا آغاز ہوتے ہی شہر میں آگ لگنے کے واقعات دو گنا ہوجاتے ہیں ،شہری اس موسم میں خاص احتیاط کریں


حال ہی میں چین سے درآمد کئے گئے 28 نئے فائر  ٹینڈرز تو   کے ایم سی فائر بریگیڈ کو  فراہم کئے گئے مگر ان فائر ٹینڈرز کو چلانے کے لئے ڈرائیورز اور دیگرشعبوں میں اسٹاف کی کمی کا محکمے کو اب بھی سامنا ہے۔۔۔