ملک کو تمباکو نوشی سے پاک کرنے کا عزم ۔ شہر قائد میں اسموک فری
کراچی سائیکلنگ ریلی کا اہتمام کیا گیا۔ ریلی کا آغاز ایمپریس مارکیٹ سے ہوا۔
کمشنر کراچی کہتے ہیں آگاہی کے ذریعے صرف تمباکو نوشی کرنے والوں کو ہی نہیں ان سے
جڑے افراد کی جانوں کو بھی بچایا جاسکتا ہے۔
سگریٹ اور تمباکو نوشی کو ترک کریں اور صحتمندانہ سرگرمیوں کا حصہ بنیں۔
اس پیغام کو عام کرنے کے لیے کراچی میں اسموک فری سائیکلنگ ریلی کا
اہتمام کیا گیا۔ وفاقی وزرات صحت اور حکومت سندھ کے تعاون سے منعقدہ ریلی کا
افتتاح کمشنر کراچی نے کیا۔ ان کا کہنا تھاکہ پاکستان میں دس لاکھ افراد وہ ہیں جو
براہ راست تمباکو نوشی نہیں کرتے مگر ان کی صحت اس کا نشانہ بن جاتی ہے۔
محمد اقبال میمن ، کمشنر کراچی کہتےہیں کہ پاکستان میں تمباکونوشی کی وجہ سے لاتعدادلوگ موت کاشکارہوتےہیں۔۔۔اوراس
میں اکتیس ہزارپیسف اسموکرہیں۔۔۔اوروہ
دوسروں کی تمباکونوشی کی وجہ سے خودموت کاشکارہوتےہیں۔۔۔
حکومت پاکستان کے تمباکو فری پراجیکٹ سے وابستہ ڈاکٹر منہاج السراج
کا کہنا تھا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں مہم کو بڑھانا مشکل دکھائی دیتا تھا۔لیکن یہاں
اچھا رسپانس ملا۔۔
ڈاکٹر منہاج کہتے ہیں کہ کوروناکی
پابندی ختم ہونےکےبعداس پیمانےپرمہم چلی ہے۔۔۔اس کامقصد نوجوانوں کومنشیات اور
تمباکونوشی سےدوررکھنےکاپیغام دیناہے۔۔۔
سائیکلنگ ریلی میں شامل شرکاء کا کہنا تھا کہ ایسی سرگرمیاں آگاہی کے
لیے موثر ثابت ہوتی ہیں۔ چیئرمین ٹیکنیکل بورڈ ایجوکیشن بھی ریلی میں شریک ہوئے۔۔
شرکاء نے کہاکہ اس کاحصہ بننےکی وجہ یہ ہےکہ یہ ایک اچھی مہم ہےجس
کوہم سپورٹ کررہےہیں۔۔۔
شرکاء۔۔۔مقصد یہ ہےکہ سب کوسائیکلینگ کی جانب لیکرآئیں ۔۔۔یہ صحت
مند سرگرمی ہے۔۔۔
شرکاء نے کہاکہ سندھ بورڈآف ٹینکینکل ایجوکیشن سب کے ساتھ ملکرکام
کررہاہے۔۔۔پہلےہم نے اداروں میں سیشن شروع کیےتھے۔۔۔پھرنوجوانوں میں آگاہی فراہم
کرنےکےلیےیہ شروع کیا۔۔
اسموک فری کراچی سائیکلنگ ریلی ایمپریس مارکیٹ سے شروع ہوکر مزار
قائد پر اختتام پذیر ہوئی۔