سندھ ہائیکورٹ میں اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے خلاف ضمانت منسوخی کے فیصلے میں ایک ارب 72 کروڑ روپے کی بے نامی
پراپرٹی کا ذکر کیا گیا ہے۔ نیب کے
مطابق آغا سراج درانی نے وزیر بلدیات اور
اسپیکر سندھ اسمبلی کی حیثیت میں کرپشن کی۔کرپشن میں ان کے
ذاتی اور ماتحت سرکاری افسران بھی شامل ہیں ۔
سندھ ہائیکورٹ کا دو رکنی
بنچ جو جسٹس ندیم اختر اور جسٹس اقبال کلہوڑو پر مشتمل تھا،، نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے خلاف
ایک ارب 72 کروڑ روپے کی بے نامی جائیداد اور کرپشن کیس میں ضمانت منسوخ کی تھی۔آغاسراج
درانی سمیت گیارہ ملزمان کی ضمانتیں منسوخ ہوئی۔نیب حکام نے عدالت میں موقف اختیار
کیا کہ آغا سراج دورانی نے تمام کرپشن 2008 سے 2015 بحیثیت وزیر بلدیات اور 2015
سے 2021 تک اسپیکر سندھ اسمبلی رہنے کے درمیان کی ۔
عدالتی فیصلے کے مطابق نیب حکام نے دعوی کیا کہ آغا سراج درانی کے
ڈرائیور منور علی نے ڈیفنس فیز 6 میں 2011 میں پلاٹ خریدا،، اور 2014 میں فروخت کیا۔
ڈرائیور کے نام پر ٹینڈروگاڑی بھی ہے،، جس کی مالیت 24 کروڑ 40 لاکھ ہے۔ ڈرائیور
منور علی نے عدالت میں بیان دیا کہ یہ جائیداد اور گاڑی کا مالک محمد اقبال ہے۔
ڈیفنس فیز 5 کے بنگلے
میں آغاسراج دورانی کی رہائش ہے جس کی مالیت 24 کروڑ سے زائد ہے۔ اس بنگلے کے مالک
محمد عرفان نے عدالت میں بیان دیا کہ اسں نے ذاتی حیثیت سے آغا سراج کو رہائش کے لئے بنگلہ کرائے پر دیا ہے۔ نیب کے مطابق آغا سراج درانی کےڈرائیور گلبہار بلوچ نے
2013 میں ایک ہزار گز کا پلاٹ خریدا ،،اور کچھ عرصے بعد 21 کروڑ 25 لاکھ میں
فروخت کردیا۔
نیب حکام کے مطابق آغا سراج درانی کے سرکاری محافظ پولیس اہلکار طفیل
احمد شاہ کے خلاف تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزم نے تین کروڑ پینتیس لاکھ روپے کا
پلاٹ خریدا۔ پہلے ملزم نے اس پلاٹ سے لاتعلقی کا اظہار کیا جب نیب حکام نے بینک پے
آرڈر ملزم کے نام پر ہونے کا ثبوت دیا ،،تو ملزم نے بیان حلفی عدالت میں جمع کروادیا
کہ پلاٹ کی فروخت کے پیسے آغا سراج کی اہلیہ کو دئیے ہیں۔
عدالتی فیصلے کے مطابق نیب حکام نے دعوی کیا کہ ٹاون آفیسر گڑی یاسین
شکیل احمد سومرو نے ڈیفنس میں دو انتہائی قیمتی جائیدادوں کی فروخت کی ۔بینک ریکارڈ
کے مطابق لوکل گورنمنٹ کے ڈرائیور مٹھا خان نے ڈی ایچ اے فیز 6 میں جائیداد خریدی
جس کی مالیت 4 کروڑ روپے ہے۔ شاہ محمد شاہ نامی ملزم نے آغا سراج درانی کی ہدایت پر ڈی ایچ اے میں تین
جائیدادیں خریدی اور پے آرڈر اپنے نام سے دئیے ۔دو پلاٹ آغاسراج کے ملازمین اور ایک
پلازہ ان کے بیٹے آغا شہباز خان کے نام منتقل کئے گئے۔