کراچی۔ سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سندھ کے تمام اضلاع کی ضلعی اے ڈی پی اسکیموں کے لئے مختص 120 ارب روپے کی بجیٹ سے تمام ضلعی اے ڈی پی اسکیموں اور ان اسکیموں پر خرچ کی گئی رقم کی تفصیلات تمام ڈپٹی کمشنرز سے طلب کرلی ہیں

نزاہت خان نزاہت خان

 کراچی۔ سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سندھ کے تمام اضلاع کی ضلعی اے ڈی پی اسکیموں کے لئے مختص 120 ارب روپے کی بجیٹ سے تمام ضلعی اے ڈی پی اسکیموں اور ان اسکیموں پر خرچ کی گئی رقم کی تفصیلات تمام ڈپٹی کمشنرز سے طلب کرلی ہیں

ج


کراچی۔ سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سندھ کے تمام اضلاع کی ضلعی اے ڈی پی اسکیموں کے لئے مختص 120 ارب روپے کی بجیٹ سے تمام ضلعی اے ڈی پی اسکیموں اور ان اسکیموں پر خرچ کی گئی رقم کی تفصیلات تمام ڈپٹی کمشنرز سے طلب کرلی ہیں۔ پی اے سی اجلاس میں ڈپٹی کمشنرز ضلعی اے ڈی پی اسکیموں اور ان پر خرچ کی گئی رقم کے متعلق تفصیلات فراہم نہ کرسکے۔ پی اے سی نے ضلعی اے ڈی پی اسکمیوں کے لئے پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر کو نوٹیفائی کرنے کے لئے چیف سیکریٹری سندھ کو ھدایات جاری کردی۔جمعرات کو پی اے سی اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں ہوا اجلاس میں کمیٹی کے اراکین مخدوم فخرالزماں،ایم کیو ایم پاکستان کے طاحہ احمد سمیت سیکریٹری ورکس سروسز اور دیگر افسران نے شرکت کی اجلاس میں چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے محکمے سے پوچھا کےضلعی اے ڈی پی کے متعلق پرنسپل اکاؤنٹگ افسر کون ہے جس سیکریٹری محکمہ ورکس سروسز محمد علی کھوسو نے پی اے سی کو بتایا کے ضلعی اے ڈی پی اسکیمیں ڈپٹی کمشنرز بناتے ہیں اور ڈپٹی کمشنرز ضلعی ڈولپمنٹ کمیٹی کے سربراہ ہیں اور محکمہ کا سیکریٹری اس متعلق پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر نہیں ہے۔چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے استفسار کیا کے ضلعی اے ڈی پی کے لئے بجیٹ کس فارمولے کے تحت مختص کی جاتی کے اور ضلعی اے ڈی پی کس سے منظور کرائی جاتی ہے۔سیکریٹری محکم ورکس سروسز نے بتایا کے ضلعی اے ڈی پی اسکیمیں ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی ایک کمیٹی منظور کرتی ہے جس کمیٹی میں محکمہ ورکس کے ایکس ای اینز، سپرنٹنڈنٹ انجنیئرزاور محکمہ بلدیات کا ایک نمائندہ شامل ہوتا ہے ہر ضلعے کی اے ڈی پی اسکیموں کے لئے رقم  محکمہ خزانہ ڈپٹی کمشنرز کو جاری کرتا ہے۔ڈپٹی سیکریٹری محکمہ خزانہ نے پی اے سی کو بتایا کے رواں سال سندھ کے تمام اضلاع کے لئے ضلعی اے ڈی پی اسکیموں کے لئے 120 ارب روپے کی بجیٹ رکھی گئی ہے۔کمیٹی کے رکن طاحہ احمد نے پوچھا کے ضلعی اے ڈی پی کا کیا مکینزم ہے اور کس بنیاد پر ضلعی اے ڈی پی بنائی جاتی جس پر محکمہ ورکس سروسز نے بتایا کے ضلعی اے ڈی پی کے لئے رقم این ایف سی ایوارڈ اور ضلعے کی آبادی کے بنیاد پر موجود فارمولے پر مختص کی جاتی ہے۔ڈپٹی کمشنرز نے پی اے سی کو بتایا کے ضلعی اے ڈی پی اسکیموں کو ڈپٹی کمشنرز ضرور منظور کرتے ہیں تاہم اسکیموں کے ٹینڈرز اور اسکمیوں پر فنڈنگ محکمہ ورکس کے ایکس ای این اور ایس ایز خرچ کرتے ہیں۔چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کےضلعی اے ڈی پی کے لئے کون جوابدہ ہے اور پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران ڈپٹی کمشنرز ہیں یا محکمے کا سیکریٹری ہے؟ جس پر محکمہ ورکس کے سیکریٹری نے بتایا کے ضلعی اے ڈی پی کے لئے پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر کے اختیارات کس کو دئے جاتے ہیں اس متعلق ایک سمری محکمہ خزانہ کو بھیجی ہے۔چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کے ضلعی اے ڈی پی اسکیموں کے لئے اربوں روپے خرچ ہونے کا معاملہ ہے اس لئے ہمیں آڈٹ کا حساب چاہئے اگر ضلعی اے ڈی پی اسکیمیں ڈپٹی کمشنرز بناتے ہیں تو حساب بھی ڈی سیز دیں۔انہوں نے کہا کے افسران کو کھلی چھوٹ نہیں دے سکتے اس لئے افسران کو عوام کی ٹیکس کے پئسوں کا جواب دینا پڑے گا کیوں کے2009ع سے یہ طئے نہیں ہوسکا ہے کے ضلعی اے ڈی پی کے لئے پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر کون ہے؟ اس لئے پی اے سی کو یہ رپورٹ چاہئے کے سندھ کی تمام ضلعی اے ڈی پی کی کتنی اسکیمیں ہیں اور کتنی اسکیمیں آن گوئنگ ہیں اور ان پر کتنا خرچ ہوا ہے۔ پی اے سی نے سندھ کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز سے ضلعی اے ڈی پی کی تمام اسکیموں اور ان اسکیموں کے لئے مختص بجیٹ سے اسکیموں پر خرچ ہونے والے اربوں رپیوں کی تفصیلات دس دنوں میں طلب کرلی ہیں۔