مشتاق احمد یوسفی نے اردو زبان کے مزاحیہ ادب کو فروغ دیا


مشتاق احمد یوسفی نے اردو زبان کے مزاحیہ ادب کو فروغ دیا

 

اکیسویں صدی کے موجودہ دورمیں اردو کے طنزیہ ومزاحیہ ادب میں جو مقبول نام گردش کر رہے ہیں ان میں ایک نام مشتاق احمد یوسفی کا بھی ہے۔ مشتاق احمد یوسفی نے اردو زبان کے مزاحیہ ادب کو فروغ دیا ۔


آج مشتاق احمد یوسفی  کی تیسری برسی  ہے۔


مشتاق احمد یوسفی راجستھان کے ٹونک شہر میں انیس سوتئیس میں پیدا ہوئے ۔ ۔۔


ان کا آبائی تعلق جے پورسے تھا جہاں انہوں نے گریجویشن تک تعلیم حاصل کی پھر علی گڑھ یونیورسٹی سے ایم ۔ اے اور ایل۔ ایل بی۔ کیا۔ پی۔ سی ۔ ایس کا امتحان پاس کرکے انیس سوپچاس تک ہندوستان میں ڈپٹی کمشنرکے عہدے پر فائز رہے۔


والدین کےساتھ ہجرت کرکےکراچی شہرمیں سکونت اختیارکی اوربینک کی ملازمت کوذریعہ معاش بنایا۔۔۔


انیس سو اکسٹھ میں مختلف انشائیوں اور مضامین کو یک جا کر کے مشتاق احمد یوسفی کا پہلا مجموعہ چراغ تلے کے نام سےمنظر عام پر آیا۔ان کے کل پانچ مجموعے شائع ہوئے۔۔۔جن میں خاکم بہ دہن،زرگزشت، آبِ گُم اورشامِ شعرِ یاراں شامل ہیں۔۔۔یہ ساری کتابیں اپنی تمام تر مزاحیہ چاشنی کے ساتھ اردو زبان وادب کے قارئین کو آج بھی مسحور کیے ہوئے ہیں۔


مشتاق احمد یوسفی کو ادب میں نمایاں کارکردگی پر حکومت پاکستان کی جانب سے ستارۂ امتیاز اور ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔

بیس جون دوہزاراٹھارہ کواردو مزاح کاعہدیوسفی ختم ہوگیا۔۔۔مشتاق احمد یوسفی اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔۔۔