واقعہ میں رکن قومی اسمبلی عالمگیر خان کے والد بھی
جا ں بحق۔ حکا م کے مطابق دھماکہ
نالے میں گیس بھر جانے کے باعث ہوا۔ دہشت
گردی یا تخریب کاری کے شواہد نہیں ملے۔وزیراعلی اور گورنر
سندھ نے اعلی پولیس حکام سے واقعہ
کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی
نالے پر بنی دو منزلہ عمارت میں نجی بینک اور دفاتر قائم تھے۔ گیس
بھرنے سے عمارت میں دھماکہ ہوا،، تو گراونڈ فلور کا بڑا حصہ نالے میں جاگرا۔ فرنیچر
ٹوٹ پھوٹ کر بکھر گیا۔ نزدیک کھڑی گاڑیاں بھی
بری طرح متاثر ہوئیں۔
ہیوی مشینری کی مدد سے عمارت کا ملبہ ہٹانے کے علاوہ،، غوطہ خور ٹیم
نے نالے میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کیا۔
ڈپٹی کمشنر ضلع غربی کے مطابق،، یہ عمارت 1960 کی دہائی میں قائم کی
گئی تھی۔ نوٹس لیا تو مالکان نے دستاویزات دکھائیں۔ جس کے بعد کارروائی نہین کی گئی۔
سیکریٹری داخلہ سندھ بھی
وہاں پہنچے۔ کہا نالے پر قائم عمارتوں کے
بنائے گئے لیز پیپر زقانونی حیثیت
نہیں رکھتے۔ جلد تجاوزات کے خلا ف گرینڈ آپریشن ہوگا۔
ڈی آئی جی جنوبی شرجیل کریم
کھرل نے چہرہ نیوز کو بتایا کہ ایس پی انوسٹی گیشن کیماڑی کی
سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم قائم کردی گئی
ہے۔ضلعی پولیس کی جانب سے آئی جی سندھ کو
رپورٹ ارسال کردی گئی۔ پولیس رپورٹ کے مطابق ایک بجکر چونتیس منٹ پر ہوا۔دھماکا گیس
بھرجانے کے باعث پیش آیا ۔دھماکا سے ملبہ سڑک پر گرنے سے زخمیوں میں اضافہ ہوا ۔
واقعہ میں تخریب کاری کے کوئی شواہد نہیں ملے