کراچی شیر شاہ میں ہونے والے دھماکےکی تحقیقات
کا آغاز کردیا گیا۔ سربراہ تحقیقاتی کمیٹی
ایس پی عبد اللہ میمن کہتے ہیں کہ حتمی طور پر دھماکے کی وجہ گیس لیکج کو قرار نہیں دے سکتے۔نمونے حاصل کرکے فارنزک لیب
بھیجے جارہے ہیں۔دوسری طرف ضلعی انتظامیہ نے بھی نالے پر قائم دیگر تجاوزات گرانا
شروع کردیں ۔
شیر شاہ پراچہ چوک پر ہونے والے دھماکے کو دو روز گزر گئے مگر جابجا بکھرا ملبہ اب بھی تباہی کی داستاں
سنا رہا ہے
متاثرین بچاکھچا سامان سمیٹنے کے ساتھ ہونے والے نقصان کا تخمینہ بھی لگانے میں
مصروف ہیں
تحقیقات کرنے والی پولیس ٹیم کے سربراہ نے بھی
جائے دھماکا کا دورہ کیا ،میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ میرٹ پر تفتیش کی جارہی ہے
،جو بھی ذمہ دارہیں، ان کا تعین کیا جائے گا،واقعہ حتمی طور پر گیس لیکج کا نتیجہ
قرار نہیں دیا جاسکتا
ڈپٹی کمشنر کیماڑی کہتے ہیں کہ شیر شاہ نالے کو
لیاری ندی تک کلئیر کیا جائے گا،ابتدائی مرحلے میں سڑک کی دوسری جانب تجاوزات گرانا
بھی شروع کردی ہیں۔۔۔ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے اجازت ملتےہی متاثرہ عمارت بھی
تیزی سے گرائی جائے گی۔
تفتیشی ٹیم نے
ڈی آئی جی ساؤتھ کو تحقیقات پر بریفنگ دی ہے۔تفتیشی ذرائع کے
مطابق ڈی آئی جی ساوتھ نے تفتیش کادائرہ
وسیع کرنےکی ہدایت کی۔ اجلاس میں فیصلہ
ہوا کہ موقع سے ملنے والے تمام نمونے پنجاب لیبارٹری بھیجے جائیں گے ۔زخمی اورجاں
بحق افرادکےکپڑوں کے نمونوں کے علاوہ ،، نالے کے اندر سے بھی نمونے
حاصل کیے جائیں گے۔