کراچی کی
مقامی عدالت نے ڈی جی،کے ڈی اے آصف میمن اور ملزم عاطف کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ دےدیا۔جج نے ریمارکس دیئے اگر افسران کو ریلیز نہیں کیا گیا،، تو کرپشن
کا کیس کیسے بن گیا۔ایسی کونسی آفت آگئی تھی کہ رات کوگرفتارکرلیا ۔ کرپشن ختم کرنی
ہےتوسندھ سیکریٹریٹ ختم کردیں،، جہاں رشوت کےبغیرکوئی فائل نہیں ملتی۔
ڈی جی،کے ڈی
اے آصف میمن اور ملزم عاطف کو اینٹی کرپشن
کورٹ کی اسپیشل جج کی رخصت کے باعث سٹی کورٹ لایا گیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن
جج جنوبی کے روبرو سماعت ہوئی۔عدالت نے کہا ریمانڈپیپرسےلگتاہے چارملزم گرفتارہیں۔اس پر پراسیکیوٹر نے وضاحت کی کہ
صرف دوملزم گرفتارہیں۔ ڈی جی ، کے ڈی اے آصف میمن پرالزام ہےکہ انہوں
نےتبادلےکےباوجودافسران کوریلیف نہیں کیا۔ وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ ملزم کا میڈیا ٹرائل اور ان کا کیریئر تباہ کیا جارہا ہے۔ریمانڈ نا
دیا جائے،، کیونکہ کیس بنتا ہی نہیں۔ پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم نےاختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ اس پر
وکیل صفائی بولے اگراحکامات نہیں مانے تویہ اینٹی کرپشن کاکیس کیسے بن گیا۔چیف سیکرٹری
سندھ ملزم آصف میمن کوہراساں کررہے ہیں۔ان کے خلاف ہراسمنٹ کی درخواست بھی دائر کردی ہے۔ عدالت نے
کہا کیس میں ان دفعات کا استعمال کیسے کیا گیا ۔اگر افسران کو ریلیز نہیں کیا گیا،،
تو کرپشن کا کیس کیسے بن گیا۔عدالت نے
ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ایسٹ کو
فوری طلب کرلیا۔دوران سماعت جج نے کہا کرپشن ختم کرنی ہےتوسندھ سیکریٹریٹ
ختم کردیں،، جہاں رشوت کےبغیرکوئی فائل نہیں ملتی۔ ایسی کونسی آفت آگئی تھی کہ رات
کوگرفتارکرلیا گیا۔ نوٹس کراتے ،،انکوائری کراتے۔ یہ سمجھ نہیں آرہا کہ ملزم نے اختیارات
کاغلط استعمال کیاہے۔ملزم آصف میمن نے کلمہ پڑھ کر عدالت میں کہا کہ ان کے پاس دو بندے
آئے تھے اور کہا کہ گواہ بنو یا ملزم۔ بعد میں عدالت نے ڈی جی ،کے ڈی اے آصف میمن
اور عاطف کو ایک روزہ ریمانڈ پر دے دیا۔ملزموں
کو جمعہ کی صبح پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسی کوئی
شہادت کیس میں ثابت نہیں ہوتی ۔ کیس میں جس پلاٹ کا ذکر ہے،، اس حوالے سے ایک دن میں تحقیقات کی اجازت بھی دے دیا۔