کراچی کی سینٹرل جیل میں قتل کیس کی سز اکاٹنے والے مجرم کا اعزاز

عرفان علی عرفان علی

کراچی کی  سینٹرل جیل  میں  قتل کیس کی سز اکاٹنے والے  مجرم کا اعزاز

کراچی کی  سینٹرل جیل  میں  قتل کیس کی سز اکاٹنے والے  مجرم کا اعزاز ۔انٹر میڈیٹ امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے سب کو حیران کردیا۔۔۔آئی کیپ نے قابلیت کی بنیاد پر  قیدی کو چارٹرڈاکاؤنٹنٹ بننے کے لئے اسکالر شپ کی پیشکش کردی۔۔۔اس ہونہار قیدی سے ملوارہے ہیں

جسم اسیر  ہی سہی۔۔۔سوچ  اور ذہن آزاد  رہتے ہیں۔۔۔۔یہ جملہ سچ ثابت کردکھا یا  ہے کراچی کی سینٹرل جیل میں قیداس تینتیس سالہ قیدی سید نعیم شاہ نے۔۔۔جسے جیل انتظامیہ نے تعلیم حاصل  کرنے کی ترغیب دی تو ا س نوجوان قیدی نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔

انٹر میڈیٹ امتحانات میں نمایاں نمبروں سے کامیابی حاصل کرنے والے قتل کیس  میں سزا  یافتہ سید نعیم شاہ کی اس وقت  حیرت کی انتہاء  نہ رہی،، جب اسے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بننے کے لئے آئی کیپ  نامی ادارے  نے اسکالر شپ آفر کی

پابند سلاسل ہونے کے باوجود اپنی تعلیمی قابلیت کا لوہامنوانے والے اس قیدی  نےجیل انتظامیہ کا سر بھی فخر سے بلند کردیا ہے، جیل انتظامیہ  کا کہنا ہے کہ سید نعیم  شاہ کی غیر معمولی کامیابی  جیل میں قیدیوں کو دی جانے والی بہتر تعلیم کی واضح دلیل ہے۔

25برس قید کی سزا کاٹنے والا سید نعیم شاہ زندگی کے  11برس جیل کی چار دیواری میں گذراچکاہے۔ اپیل کرتا ہے کہ  اعلیٰ عدلیہ اور حکومت سزا کے فیصلے پر نظر ثانی کرے  تاکہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے معاشرے کا کار آمد شہری بن سکے۔

انٹر میڈیٹ امتحان میں سید نعیم شاہ کی نمایاں نمبروں سے کامیابی نے ثابت کردیا ہے کہ انسان کی لگن اگر سچی ہو تو درمیان حائل سلاخیں کوئی معنی نہیں رکھتیں