کراچی میں ڈاکو نے خوشیوں سے بھرا ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا۔۔

عرفان علی عرفان علی

کراچی میں ڈاکو نے خوشیوں سے بھرا ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا۔۔

کراچی میں ڈاکو نے خوشیوں سے بھرا ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا۔۔


گھر کی دہلیز پر ماں اور بہن پر ڈاکو کو اسلحہ تانے دیکھا تو نوجوان شاہ رخ   ملزم کو پکڑنے کی کوشش میں جان گنوا بیٹھا۔۔تین روز قبل جس گھر میں شادیانے تھے ،،دولہا کی

موت پر آج وہی ماتم کدہ بن گیا ہے۔


ابھی گھر میں شادیانوں کی گونج تھمی نہ تھی کہ صف ماتم بچھ گئی۔


جس چھوٹے بھائی کو تین روز قبل دولہا بنایا اور دھوم دھام سے شادی کی،، آج اس ہی کی میت کوکاندھا دینے والا یہ شخص جہانزیب خان ہے۔غم سے نڈھال بھائی کا کہنا ہے کہ شاہ رخ نے اہلیہ کو کچھ دیر بعد ہی میکے چھوڑنے جانا تھا۔ والدہ اور بہن کو ڈاکو کے ہاتھوں یرغمال دیکھا تو برداشت نہ کرسکا۔


غمزدہ بھائی کا کہنا ہے کہ گولی لگنے کے بعد بھائی تڑپتا رہا اور اہل محلہ تماشہ دیکھتے رہے۔قریب موجود سیکیورٹی گارڈ نے بھی ملزم کو پکڑنے کی کوشش نہ کی


نوبیاہتا دولہا کی اندوہناک موت پر علاقے  کی فضاء بھی سوگوار   ہے۔رہائش گاہ پر تعزیت کے لئے آنے والوں کا  تانتا بندھا رہا۔نوجوان شاہ رخ کی نمازجنازہ طارق روڈ پر رحمانیہ مسجد میں ادا کی گئی۔

بہن بھائیوں،،، اور نوبیاہتا دلہن کو اچانک روتا چھوڑ جانے والا شاہ رخ سات بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا اور ہر ایک کا لاڈلہ ہونے کے ساتھ  اعلیٰ تعلیم یافتہ اور حافظ قرآن بھی تھا۔ مقتول شاہ رخ کو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ طارق روڈ قبرستان میں سپر دخاک کردیا گیا۔۔۔ہاتھوں کی مہندی کا رنگ پھیکا پڑنے سے پہلے ہی بیوہ ہوجانے والی دلہن اور دیگر لواحقین کا بس یہی مطالبہ ہے کہ پولیس شاہ رخ کے قاتل کو جلد از جلد گرفتار کرے۔