کراچی ضلع وسطی میں عمارت کی تعمیر کے خلاف کیس۔ سندھ ہائی کورٹ کا دو ماہ میں غیرقانونی تعمیرا ت گرانے کا حکم

صبانور صبانور

کراچی ضلع وسطی میں   عمارت کی تعمیر کے خلاف  کیس۔ سندھ ہائی کورٹ کا  دو ماہ میں   غیرقانونی  تعمیرا ت گرانے کا حکم

کراچی ضلع وسطی میں   عمارت کی تعمیر کے خلاف  کیس۔ سندھ ہائی کورٹ کا  دو ماہ میں   غیرقانونی  تعمیرا ت گرانے کا حکم۔  بلڈر اور ایس بی سی اے افسران  پر مقدمہ درج کرنے کا آرڈر  بھی جاری ۔ خالد بن ولید روڈ پر تعمیر  بلڈنگ  کے  خلاف کیس میں ایس بی سی اے  سے جواب طلب کرلیا۔

سندھ ہائی کورٹ  میں کراچی ،ضلع وسطی میں بنا  اجازت چھ  منزلہ عمارت کی تعمیر کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت  نے  غیر قانونی تعمیر میں ملوث بلڈر کے خلاف مقدمہ درج کرنے  اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ذمہ دار افسروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔عدالت نے کہا فوری طور پر غیر قانونی تعمیرات کو گرایا جائے۔ ہم کسی بھی صورت میں غیر قانونی تعمیرات برداشت نہیں کریں گے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر ایس بی سی   سے عدالتی احکامات پر عملدرآمد رپورٹ طلب کرلی۔

عدالت   میں خالد بن ولید روڈ پر واقع دانش گریویٹی ٹاور کے خلاف درخواست  پر بھی  سماعت ہوئی۔ دوران سماعت عدالت نے درخواست گزار سے  کہا عمارت پچیس سال پہلے مکمل تعمیر ہوگئی تھی۔آپ اب عدالت آرہے ہیں۔عدالت  نے ایس بی سی  اے کو نوٹس جاری کر دیئے ،،اور تین ہفتے میں جواب طلب کرلیا۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو  عمارت کا نقشہ اور دیگر تفصیلات پیش کرنے کا حکم بھی دے دیا۔درخواست گزار کا موقف ہے کہ روڈ کے  ساتھ پارک پر بھی قبضہ کرکے دس منزل سے زائد عمارت تعمیر کرلی گئی ہے۔ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے،  پراجیکٹ دس فیصد بھی آباد نہیں ہوا ۔