نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس میں داستان گوئی کی محفل سجائی گئی،

عرفان علی عرفان علی

نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس میں داستان گوئی کی محفل سجائی گئی،

نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس میں داستان گوئی کی محفل سجائی گئی،



 نوجوان قصہ خوانوں نے ایسی بیٹھک لگائی کے سننے والے داد دئیے بغیر نہ رہ سکے۔

مشتاق یوسفی کی کتاب آب گم سے چنیدہ اقتباس داستان گوئی کی صورت پیش کیے گئے

بعض لوگ چینی کے برتن کی طرح ٹوٹتے ہیں کہ مسالے سے آسانی سے جڑ تو جاتے ہیں مگر وہ بال اور جوڑ پہلے نظر آتا ہے۔ برتن بعد میں۔۔

 

نوجوان قصہ خوانوں نے مشتاق احمد یوسفی کی کتاب آب گم کے مضامین کو داستان گوئی کے ذریعے حاضرین کے دلوں میں اتار دیا۔۔

 

فواد خان ، میثم نقوی اور نظرالحسن نے نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس میں اس نثری افسانوی ادب کا خوبصورتی سے احاطہ کیا۔

 

 کہا داستان گوئی کی روایت دم نہیں توڑ رہی ،، نئی نسل اس کو پروان چڑھانے میں کردار ادا کررہی ہے۔۔

 

داستان گوئی کی محفل کے شرکاء نے ناپا کی کاوشوں کو سراہا۔ قصہ خوانوں کے معترف نظر آئے

 

اسٹوری ٹیلنگ یا داستان گوئی کے اس فن کا تعلق تیرہویں صدی سے ہے۔


 نوجوان نسل کی اس فن میں دلچسپی اردو ادب سے محبت کی دلیل ہے،،  داستان گوئی کی عمر بڑی طویل ہے۔۔